خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 316
خطبات ناصر جلد ششم ٣١٦ خطبہ جمعہ ۳۰ / جنوری ۱۹۷۶ء تمثیلی زبان میں دنیا کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں جب ہم غور کرتے ہیں تو آپ کا یہ بیان اور آپ کا یہ کہنا کہ ایسے وقت میں ہم یارنہاں میں نہاں ہو جاتے ہیں قرآن کریم کی بعض آیات کی تفسیر ہی میں ہے۔ہمیں قرآن عظیم نے دعا کی طرف توجہ دلائی، دعا کا حکم دیا، دعا کی حکمتیں بیان کیں۔اسلامی تعلیم نے دعا میں شغف پیدا کرنے کی کوشش کی اور ایک مومن کو ہر وقت دعا کرنے کا عادی بنا دیا۔یہ مقام بڑا عظیم مقام ہے کہ دوسروں پر غصہ نہیں کرنا اور دوسروں کو ایسا جواب نہیں دینا جس سے فتنہ پیدا ہو بلکہ ایسے اوقات میں ” نہاں ہم ہو گئے یا ر نہاں میں“ پر عمل کرتے ہوئے انتہائی کوشش کر کے خدا تعالیٰ کی رحمت اور پیار کی چادر میں نہاں ہونا ہے۔اس کے لئے ہمیں دعا سکھائی ہے اس لئے کہ دعا کے بغیر نہ اللہ انسان کا ولی بنتا ہے اور نہ انسان ہی اولیاء اللہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ (البقرة: ۲۵۸) اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :۔الا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (يونس: ٦٣ ) خدا تعالیٰ کا ولی بن جانا یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا پیار ہے۔انسان تو کمزور ہے خدا کا فضل اور اس کی رحمت ہی ایسا کر سکتی ہے اور انسان کا ہر دوسری چیز سے انقطاع کر کے محض اللہ کے لئے ہو جانا یہ بڑی بات ہے۔اس کے لئے بڑی قربانی اور بڑے ایثار کی ضرورت ہے۔اس کے لئے بڑی فدائیت ، اس کے لئے اپنے نفس کو مٹا دینے اور اس کے لئے سب کچھ چھوڑ کر اُسی کو سب کچھ سمجھ لینے کی ضرورت ہے اور پھر اس کے لئے ، اس انقطاع کے لئے ، اس نہاں ہو جانے کے لئے معرفت کی ضرورت ہے اور دعا کے بغیر انسان کو معرفت حاصل نہیں ہوتی یہ ہمیں قرآن کریم نے بتایا ہے۔جب انسان ابتہال کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا اور اس سے دعائیں کرتا ہے تو ان دعاؤں کے نتیجہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کاملہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تب اس معرفت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور