خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 313
خطبات ناصر جلد ششم ۳۱۳ خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۷۶ء مقام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جتنے نبی ہوئے ہیں ان سے بلند اور ارفع ہے اور وہ اس کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ مہدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل کامل ہیں لیکن آپ سے پہلا کوئی نبی ظل کامل نہیں ہے۔ہم احمدیوں کے نزدیک وہ بھی ظل کے طور پر ہیں کیونکہ اصل شریعت ،شریعت محمد یہ ہے جسے قرآن کریم نے الکتاب کہا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے اوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الكتب (ال عمران : (۲۴) گویا پہلے انبیاء کو قرآن کریم کی شریعت کا ایک حصہ دیا گیا تھا لیکن مہدی علیہ السلام کو سارے قرآن کی سمجھ اور فہم عطا کیا گیا ہے اور ساری دنیا کی اصلاح اس کے پر نظر ہے۔پس یہ مقام ہے مہدی معہود علیہ السلام کا۔تم اس مقام کو پہچانو اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنوور نہ آدھے ادھر اور آدھے اُدھر، اس کا تو کوئی فائدہ نہیں پھر تو خدا تعالیٰ بھی ناراض اور دنیا بھی ناراض۔یہ تو میرے نزدیک کوئی مزے کی زندگی نہیں۔خدا تعالیٰ کا فضل ہے جماعت کی تو کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ان کی قیمت کے لحاظ سے اگر کوئی یہ کہے کہ ایک احمدی کی قیمت کسی قیمتی ہیرے اتنی ہے تو میں کہوں گا غلط ہے۔میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ قیمت ہے لیکن شیطان بھی ساتھ لگا ہوا ہے نفس کی کمزوریاں بھی ہیں اس واسطے تم اپنا محاسبہ کر کے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کیا کرو کیونکہ اب تو یہ بڑا نازک دور ہے جس میں ہم داخل ہو چکے ہیں۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے اور یہ کہتے کہتے کبھی نہیں تھکوں گا کہ ایک بڑے نازک دور میں ہم داخل ہو چکے ہیں۔اگلے ۲۰،۱۵ سال کے عرصہ میں پتہ نہیں اللہ تعالیٰ ہم سے کتنی قربانیاں لینا چاہتا ہے ہمیں یہ قربانیاں بشاشت کے ساتھ دے دینی چاہئیں۔آخر ۱۹۷۴ء کا سال قربانیوں کا سال تھا نا۔اُس وقت یوں لگتا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا لیکن ہم شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔اس شاہراہ پر ۱۹۷۴ء کا کوئی نشان مجھے نظر نہیں آ رہا۔سارے نشانات ختم ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے جماعت پر بڑا فضل فرمایا جتنی کسی نے بشاشت کے ساتھ قربانی دی اتنی ہی جلدی خدا نے اس پر زیادہ فضل فرمایا اور اس کے گھر کو بھر دیا حالانکہ مکان اور دوسری جائیداد میں لوٹی اور جلائی گئی تھیں اور بڑا ظلم ہوا تھا۔میں اُن دنوں ہفتوں سویا نہیں یہ ایک حقیقت ہے لیکن وہ نشان مٹ گئے۔