خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 314

خطبات ناصر جلد ششم ۳۱۴ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے ان دنوں ہمارے دو نو جوان مبلغوں کو بس میں اتنا پیٹا گیا کہ ان کے منہ سوجھ گئے اور گردنیں اکٹر گئیں۔سو جھے ہوئے منہ اور گردنیں لے کر وہ میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ دس میل کے سفر کے دوران ساری بس نے ہمیں مارا ہے۔میں دیکھ کر ہنس پڑا۔میرا فرض یہ تھا میں نے ان سے کہا میں تمہیں ایک بات بتا تا ہوں۔تمہارے منہ اور گردن کا یہ ورم ۴۸ گھنٹے کے اندر اندر ختم ہو جائے گا اس لئے فکر نہ کرو چنانچہ وہ خوش خوش واپس چلے گئے اور ٹھیک ۴۸ گھنٹے کے بعد دفتر والوں نے مجھے اطلاع دی کہ ان میں سے ایک ملنا چاہتا ہے میں سمجھ گیا کہ کیوں؟ میں نے کہا بھیج دو جب وہ میرے پاس آیا تو کہنے لگا میں آپ کو اپنی گردن دکھانے کے لئے آیا ہوں کہ ۴۸ گھنٹے کے اندراندر ورم کا نام ونشان نہیں رہا۔پس ایک تو ہمیں اپنے فرائض کا علم ہونا چاہیے دوسرے ان فرائض کو ہم تبھی ادا کر سکتے ہیں ب ہمیں پختہ یقین ہو کہ مہدی علیہ السلام کا یہ مقام ہے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزد یک۔اس مقام کو پہچاننے کے بعد نوع انسانی کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔ہم کسی کے دشمن نہیں اور نہ کسی کا سر کاٹنا چاہتے ہیں ہم تو کسی کو ایک کا نا بھی نہیں چھونا چاہتے لیکن ہم اُن کو اس گڑھے سے بچانا چاہتے ہیں جس کے اندر آگ جل رہی ہے اور وہ اس کے کنارے کھڑے ہیں۔ہماری یہ کیفیت ہے ہمارے دل میں ان کے لئے غصہ نہیں بلکہ رحم ہے۔رحم بھی ہلکی چیز ہے ہمارے دل میں لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) والی کیفیت ہے اور یہ رحم کی کیفیت سے زیادہ شدت اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے تم اپنے اندر یہ کیفیت پیدا کرو اور خدا کے حضور بہت دعائیں کرو کہ وہ تمہیں صراط مستقیم پر قائم رکھے اور جس مقصد کے لئے مہدی علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا ہے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے آپ کی زندگیاں عملاً وقف رہیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )