خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 309
خطبات ناصر جلد ششم ۳۰۹ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء کے ذہن میں ہوگا حالانکہ وہ کتابیں پڑھتے ہیں بہتوں کو اس کا علم ہونا چاہیے۔پس مہدی معہود علیہ السلام کا صرف یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں چودہویں صدی کے سر پر مجدّد ہوکر آیا ہوں بلکہ آپ کا یہ دعویٰ بھی ہے اور اس میں کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔آپ نے فرمایا اس انسانی زندگی کے دور کا جو آخری ہزار سال ہے اس ہزار سال کا خدا نے مجھے مجدد بنایا ہے۔جب خدا نے آپ کو ہزار سال کا مجد د بنادیا اور میں تو علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو بات کہتے ہیں وہ سچی ہے اس لئے اگر کوئی ۱۵ ویں صدی کا مجدد ہوا یا ۱۶ ویں یاے اویس کا ہوا تو اس کی قسم اور نوعیت وہ نہیں ہوگی جو ۱۳ ویں صدی کے مجد د کی تھی بلکہ جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے وہ آپ کے ظل کے طور پر محبت دہوگا۔مجدد کے متعلق میں ایک اور غلط نہی دور کر دینا چاہتا ہوں۔ایک صدی میں صرف ایک مجدد نہیں ہوا کرتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی صدی مجدد سے خالی نہیں ہوگی یہ نہیں فرما یا کہ کسی صدی میں ایک سے زیادہ مجدد نہیں ہوں گے ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ان مجددین کے اسماء جمع کریں جن کو مجد د سمجھا گیا ہے تو ایک ایک صدی میں ایک سے زائد مجددیت کے دعویدار ہمیں مل جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے معا پہلے کی صدی میں ہندوستان میں ایک بزرگ تھے جسے اُمت محمدیہ میں ( ہندوستان کے رہنے والے مسلمانوں ) نے مجدد تسلیم کیا لیکن اب جو نئی کتا بیں ہمارے سامنے آئیں تو ہمیں پتہ لگا کہ نائیجیریا میں اسی زمانہ میں عثمان فودگی نے مجد د ہونے کا دعوی کیا تھا اور خالی یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس دعوئی سے پہلے اُس علاقے کے بزرگوں کو خدا تعالیٰ نے کشف اور رؤیا اور الہام کے ذریعہ بتایا تھا کہ تمہارے علاقے میں ایک مجدد پیدا ہونے والا ہے۔چنانچہ وہ مقامی بشارتوں کے مطابق پیدا ہوئے اور انہوں نے تجدید دین کی اور بڑی زبر دست تجدید دین کی۔ویسے ان کا مشن صرف بعض بدعات کو دور کرنا تھا جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تجدید دین تمام بدعات کو مٹانے پر حاوی ہے۔خدا تعالیٰ نے ان کو بڑا تقویٰ بھی دیا تھا اور ان کو بڑی فراست بھی عطا کر رکھی تھی۔میں نے