خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 308
خطبات ناصر جلد ششم ۳۰۸ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء کہ اُن کی مثال دی جا سکے۔بعض دفعہ اسی قسم کے خیالات بعض کمزور نو جوان احمدیوں کے دل میں بھی آجاتے ہیں مثلاً یہ کہ ہر صدی کے سر پر مجد دآئے گا۔یہ صدی ختم ہو گئی ہے اس لئے اب ہم نئے مجد د کا انتظار کرتے ہیں۔اگر اس قسم کا آدمی مجھ سے بات کرے تو میں اس کو یہ کہا کرتا ہوں کہ اس وقت جو مجد د آ چکا ہے تم اس کے احکام کی تو پہلے تعمیل کرو پھر نئے آنے والے کے متعلق سمجھیں گے کہ تم اُس کی بھی بات مان لو گے۔جس کو مان چکے ہو اس کی بات کو تو تم تسلیم نہیں کرتے اس کی بات پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں اور آنے والے کا انتظار کر رہے ہو۔اس میں کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چودھویں صدی کے مجد د کی حیثیت میں آئے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں ہے کہ آپ اس دنیا کی زندگی کے سات ہزار سالہ دور کے آخری ہزار سال کے ہزار سال کے مجد د کی حیثیت سے آئے ہیں اور یہی ایک فقرہ اس وقت میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکچر سیالکوٹ میں لکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔،، ’اور ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلا تا ہے وہ مجد دصدی بھی ہے اور مجدّد الف آخر بھی۔یعنی اس دنیا کا جو آخری ہزار سال ہے اس کے بھی آپ مجد د ہیں اور چودہویں صدی کے بھی مجدد ہیں اس لئے کسی کا یہ کہنا مثلاً غیر مبائعین کا کہ ہم اس دعویٰ کو تو مانتے ہیں کہ آپ چودہویں صدی کے مجدد ہیں مگر ہم اس دعوی کو نہیں مانتے کہ دنیا کی زندگی کے اس دور یعنی آخری ہزار سال کے بھی آپ مجد د ہیں۔اگر تم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تو پھر تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم اور عدل کیسے مانا؟ آپ کا یہ دعویٰ کہ میں صرف ایک صدی کا مجد دنہیں ہوں دس صدیوں کا مجد دہوں۔میرے خیال میں یہاں اس وقت جو نو جوان بیٹھے ہیں اُن میں سے بہت کم نوجوانوں