خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 307 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 307

خطبات ناصر جلد ششم ۳۰۷ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء اور عدل ہو گا اس کے متعلق یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں اس کا کوئی حق نہیں ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض احادیث کے متعلق فرمایا کہ ان کے بارہ میں مجھے بتایا گیا ہے کہ در حقیقت یہ احادیث اس اس طرح ہیں۔پس یہ عجیب بات ہے جو شخص براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتا ہے اس کی بات کو ٹھکرانے کے لئے بعض لوگ تیار ہو گئے اور امام بخاری کو یہ حق دے دیا کہ وہ اپنی صحیح بخاری کے لئے لاکھوں احادیث کے مجموعہ سے صحیح حدیثوں کا انتخاب کریں۔ویسے امام بخاری کی ہر احمدی کے دل میں بڑی قدر ہے۔اُنہوں نے بڑی محنت کی اور بڑے اخلاص سے اور بڑی دعاؤں کے بعد آخر صحیح بخاری کو مرتب کیا اور رطب و یابس پر مشتمل کئی لاکھوں احادیث کو شامل نہیں کیا۔احادیث کی تحقیق میں اُنہوں نے اپنی ساری عمر خرچ کر دی۔ایک ایک حدیث کی صحت کو معلوم کرنے کے لئے انہوں نے بعض دفعہ سینکڑوں میل کا سفر اختیار کیا صرف یہ پتہ لینے کے لئے کہ راویوں کا مقام کیا ہے وہ سچ بولنے والے ہیں یا نہیں ، اُن کا حافظہ کیسا ہے۔بعض دفعہ ایک شخص بڑا مخلص ہوتا ہے لیکن اگر اُس کا حافظہ کام نہیں کر رہا تو وہ ایسی بات کر جائے گا جو اصول روایت و درایت پر پوری نہیں اترتی۔چنانچہ جب کئی لاکھ احادیث کا مجموعہ امام بخاری کے سامنے آیا تو انہوں نے دیکھا بعض احادیث کے الفاظ قرآن کریم سے ٹکراتے ہیں انہوں نے کہا یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ ان کا دماغ نہیں مانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو۔اس شک کو دور کرنے کے لئے پھر وہ راویوں کو تلاش کرتے تھے۔پس اُن کو تو بعض لوگوں کے نزدیک یہ حق پہنچ گیا کہ لاکھوں احادیث کو رد کر دیں لیکن ان لوگوں کے نزدیک مہدی علیہ السلام کو یہ حق کیوں نہیں پہنچتا جنہوں نے خدا سے سیکھ کر یہ بتانا ہے کہ کون سی حدیث درست ہے اور کون سی نہیں، کس حدیث کو رد کریں یا کس کو قبول کریں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے غیر مبائعین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم اور عدل نہیں مانتے رہے اب تو وہ ویسے ہی ختم ہو گئے ہیں۔میں اپنے ذوق کے مطابق ایک تاریخی مثال دے رہا ہوں آج کی زندگی کی مثال نہیں دے رہا کیونکہ میرے نزدیک تو اب اُن کا وجود ایسا نہیں رہا