خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 287

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۷ خطبہ جمعہ ۲ /جنوری ۱۹۷۶ء ایک سے زائد فرد جو کہ کچھ لکھا پڑھا ہوا اپنے آپ کو پیش کرے اور جو گزارہ ہم معلمین کو دیتے ہیں وہ گزارہ بھی وہ نہ لیں۔میں تنخواہ کہنے لگا تھا۔تنخواہ تو ہم دیتے نہیں۔جولوگ وقف جدید کے لئے وقف کرتے ہیں ان کو ہم گزارہ دیتے ہیں۔بہر حال وہ گزارہ بھی نہ لیں بلکہ اپنا کام کریں اور اپنے گاؤں میں رہ کر اپنی جماعت کو علمی معلومات بہم پہنچا ئیں۔وہ شاید اکٹھا ایک سال مرکز میں رہ کر تعلیم حاصل نہ کر سکیں لیکن وہ ایسے واقفین رضا کارتین مہینے کے لئے یہاں آئیں اور تین مہینے کا ایک کورس کر کے واپس چلے جائیں پھر دوبارہ تین مہینے کے لئے آئیں اور ایک اور کورس کر لیں اور اس طرح ہم ان کو کم از کم اس معیار پر لے آئیں جس معیار پر آج وقف جدید کا معلم پہنچا ہوا ہے اور میرے نزد یک وقف جدید کا معلم بھی اس معیار پر نہیں ہے جس معیار پر جماعتِ احمد یہ کے معلم کو ہونا چاہیے۔بہر حال ہر گاؤں سے اور ہر جماعت سے اس قسم کے آدمی نکلیں اور اگر بعض جماعتیں چھوٹی ہیں تو ان کے گرد جو بڑی جماعتیں ہیں وہ ایک سے زائد آدمی دیں اور ان کے ذمہ یہ لگایا جائے تم ہفتے میں کم از کم ایک دن ساتھ والی جماعت میں جاؤ وہ کوئی دن مقرر کر لیں بہر حال ساتواں دن وہ ساتھ والی جماعت میں دیں اور (اگر ان کو اس قسم کی تربیت ہو تو ) اپنے گاؤں میں تو وہ ہر وقت ہی پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کی باتیں بڑوں اور بچوں اور مردوں اور عورتوں کے سامنے کریں اور ان کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پیدا کر کے ان کو یہ Convince ( کنونس ) کرا دیں۔انہیں یہ باور کرا دیں اور ان کو پختہ طور پر یہ بات سمجھا دیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرنا اور آپ کے اُسوہ پر چلنا اور آپ کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لینا کوئی مہنگا سودا نہیں ہے بلکہ بہت ہی سستا سودا ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت اسلامیہ کو جس کی کہ ہم پیروی کرنے والے ہیں اس قسم کا مذہب نہیں بنایا جس میں یہ دعا کی گئی ہو کہ اے خدا! ہمیں صرف اُخروی نعماء سے نواز بلکہ ہمیں تو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النار (البقرة : ۲۰۲) اور دنیا کی تمام حسنات کے حقیقی وارث دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل