خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 283

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۳ خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۶ء توجہ دلائی گئی ہے اور وہ اس طرح پر کہ اس دفعہ بڑی کثرت سے مہمان آئے ہیں۔میں افسر جلسہ سالا نہ بھی رہا ہوں وہ بھی ایک خدمت ہے لیکن جلسے کی ہر خدمت ہی بڑی پیاری خدمت ہے اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں جلسے کے دنوں میں جلسے کی خدمت سے فائدہ اٹھاتا رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا رہا ہوں کہ اُس نے مجھے اس کی توفیق دی۔ہم نے وَشِعُ مَكَانَكَ کا یہ نظارہ تو دیکھا ہے کہ ہمارے مکان کبھی بھی ہمارے مہمانوں کے لئے پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کو تنگی سے گزارہ کرنا پڑتا رہا ہے لیکن یہ نہیں ہوا کہ بالکل ہی کم ہو جائیں اور پہلے برآمدوں کو قناتیں لگا کر رہائش کے لئے استعمال کیا جائے اور پھر چھولداریاں اور شامیانے لگا کر رہنے کے لئے گنجائش پیدا کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو جلسہ کے مہمانوں کے لئے آئندہ جلسہ سے پہلے کئی ہزار مربع فٹ جگہ شاید ۵۰،۴۰ ہزار مربع فٹ جگہ تعمیر کرنی پڑے گی خواہ وہ عارضی بیرکوں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔اِس سلسلہ میں ابھی سے سوچ کر اور جو سکیم بھی بنے اس کے مطابق جلسے سے قبل اس کو تیار کر دینا چاہیے کیونکہ اس سال مہمان جو کہ اہل ربوہ کے لئے برکتوں اور رحمتوں کی یاد دلانے والے ہیں وہ اپنے کناروں سے اس طرح چھلکے ہیں کہ سال میں عام طور پر جس شرح سے مکان بنتے ہیں اور جتنے مکان بنتے ہیں وہ ان کو نہیں سنبھال سکے۔مرکز کے مکانوں میں ہمیشہ ہی وسعت پیدا ہوتی ہے لیکن اس سال اتنی کثرت کے ساتھ مہمان آئے کہ سال بھر میں جو وسعتیں پیدا ہوئی تھیں ان کو تو ہم بھول ہی گئے اور ہمیں مہمانوں کو ٹھہرانے کی فکر رہی جن کی قربانی کو ہم کبھی بھول نہیں سکتے۔آنے والے بھی خدا تعالیٰ کی مرضات کے حصول کے لئے آتے ہیں اور تکلیفیں برداشت کرتے ہیں لیکن سردی کے ان ایام میں جب کہ کبھی بارش بھی ہو جاتی ہے ان کو آسمان کے نیچے تو بہر حال نہیں رکھا جا سکتا چونکہ اس سلسلہ میں بھی یہاں بعض روکیں اور دقتیں ہیں۔اس لئے دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری راہ سے ان روکوں کو دور کر دے اور ہمارے ملک میں پیار کی فضا پیدا کرے اور جماعت کو یہ توفیق دے کہ وہ آنے والوں کے لئے مکانیت کی جو کم سے کم ضرورت ہے اس حد تک تو تعمیر کریں خواہ وہ ہٹس (Huts) ہوں یا بیرکس ہوں یا جو مرضی ان کا نام