خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 282
خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۲ خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۶ء یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں شاید جماعت کا ایک حصہ کمزوری دکھائے گا اور اللہ کے لئے ان کے پیار میں کمی پیدا ہو جائے گی اور وہ مہدی معہود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مرکز سلسلہ کی طرف نہیں آئیں گے۔ان کے اس خیال کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار اور ا اپنی ، رحمت سے اس قسم کے سامان پیدا کئے کہ اس جلسہ پر پچھلے تمام جلسوں سے زیادہ احباب آئے اور ہر قسم کی صعوبتیں اُٹھا کر اور روکوں کو پھلانگتے ہوئے آئے اور یہاں پر بھی بڑے سکون کے ساتھ اور بڑی توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سنا کیونکہ یہاں ہمارے جلسہ میں خدائے واحد و یگانہ کا ذکر ہی ہوتا ہے اور انہوں نے بظاہر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ حاصل کرنے کے سامان پیدا کئے اور ہم سب کی ، ساری جماعت کی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور اپنے پیار کے جلوے ہمیشہ پہلے سے زیادہ دکھاتا چلا جائے۔دو چیزیں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں ایک یہ کہ وہ انتظامیہ جس کے سپرد یہ کام ہے کہ وہ قومی ترقی کے لئے منصوبے بنائے اور جس نے ملک کے تعلیمی اداروں کو قو میا یا اور نیشنلائز کیا جماعت کا سب سے پہلے یہ فرض تھا کہ وہ اس سے تعاون کرتی اور میں سمجھتا ہوں کہ سارے پاکستان میں سب سے زیادہ بشاشت کے ساتھ اور تعاون کرتے ہوئے اور دل میں بھی کوئی بات نہ رکھتے ہوئے جماعت نے موجودہ نرخ کے لحاظ سے قریباً پانچ کروڑ روپے کی جائیدا دحکومت کے حوالے کر دی کیونکہ آخر یہ ملک ہمارا ہی ہے اور آئندہ پڑھ کر اور علم حاصل کر کے عمل کے میدان میں جانے والی نسلیں ہماری ہی ہیں۔پس ہم نے بڑی خوشی سے اس جائیداد کو قوم کے سپر د کر دیا لیکن جب جلسہ قریب آیا تو اسی انتظامیہ کے بعض افراد نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ عمارتیں جنہیں جماعت نے بنایا اور انہیں بشاشت کے ساتھ قوم کے سپرد کر دیا ہم قوم کے نمائندے تو ہیں لیکن ہم بشاشت کے ساتھ آپ لوگوں کو وہ عمارتیں نہیں دیں گے کہ آپ وہاں اپنے مہمانوں کو ٹھہرائیں۔پھر انہیں کچھ غیرت دلائی گئی اور سمجھایا گیا اللہ نے فضل کیا اور ان کو سمجھ آگئی لیکن ہمارے لئے آئندہ کے لئے ایک انتباہ کا سامان بھی پیدا ہو گیا ہے۔لیکن اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہمیں ایک