خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 263

خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۳ خطبه جمعه ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء سے بے انتہا پیار کرنے والا قا در و توانا خدا ہے اُس نے ان دعاؤں کو ٹنا اور اس جماعت کو پیدا کر دیا۔ٹھیک ہے ہماری جماعت میں بعض منافق بھی ہیں اور کمزور بھی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی بعض لوگ منافق اور کمزور تھے لیکن بحیثیت جماعت یہ ایک ایسی جماعت ہے جو کسی کو دکھ دینا تو در کنار دکھ دینے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اور اتنی بڑی برکت ہے جو اس جماعت نے اسلام کے ذریعہ حاصل کی تھی اس برکت کو ساری دنیا حاصل کر سکتی ہے۔پس علم حاصل کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علوم کا دریا بہا دیا ہے تاہم جیسا کہ کہا گیا تھا ہر ظرف اپنی استعداد کے مطابق علم حاصل کرے گا۔ہر برتن اپنے ظرف کے مطابق بھر جائے گا پس علم کے ساتھ ساتھ اپنے لئے پاکیزگی کے سامان پیدا کرو تا کہ آپ کا نمونہ دوسروں کے لئے ہدایت کا موجب بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میری جماعت کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کے لئے ایک نمونہ بنے۔اس لئے آپ اس غرض کو پورا کر دیں دنیا آپ سے آکر چمٹ جائے گی اور آج نہیں کل پہچان لے گی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری نجات کے سامان پیدا کر دیئے ہیں لیکن ہم عاجز اور مسکین بندے ہیں۔خدا تعالیٰ سے دعائیں کر کے اس سے طاقت حاصل کرو۔اپنی عقل اور فراست کی تیزی کے لئے بھی دعائیں کرو اور اپنے اعمال کی پاکیزگی اور اپنے دل اور روح کی۔جماعت کے لئے بھی دعائیں کرو۔اللہ تعالیٰ فضل کرے وہ اپنی رحمتوں سے نوازے اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے ہماری ساری جماعت کو دنیا کے لئے اسلام کی صداقت کی خاطر ایک نمونہ بناوے۔اللھم آمین۔روز نامه الفضل ربوه ۱۴ فروری ۱۹۷۶ء صفحه ۲ تا ۵)