خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 236
خطبات ناصر جلد ششم ۲۳۶ خطبه جمعه ۲۸ / نومبر ۱۹۷۵ء راضی ہو جائے۔جب خدا ہم سے راضی ہو تو دنیا کی کون سی طاقت خدا کی رضا کو زید اور بکر سے چھین سکتی ہے یا مجھ سے اور آپ سے چھین سکتی ہے۔پس قرآن کریم نے پہلی بات یہ بتائی کہ اسلام کا حصول خدا تعالیٰ کے دربار کے سوا کسی اور جگہ سے ممکن نہیں اور اسلام پر قائم رہنا بھی خدا تعالیٰ کے اذن اور منشاء اور حکم کے بغیر ممکن نہیں اور دوسری بات ہمیں یہ بتائی کہ اسلام کے نتیجہ میں اجر ملتا ہے اسلامی تعلیم تو زندگی کے ہر پہلو کو پالش کر دیتی ہے اسے صاف کر دیتی ہے اور روشن کر دیتی ہے اور خدا کی نگاہ میں انسان کو پیارا بنا دیتی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے سے اس کا اجر ملتا ہے اور یہ اجر سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی دے نہیں سکتا۔بڑا ہی بیوقوف ہے وہ انسان جو کہتا ہے کہ میں کسی کو مسلمان بناؤں گا اور میں اجر دوں گا۔بھلا جن لوگوں کا اخروی زندگی پر ایمان ہی نہیں وہ اخروی زندگی کی نعمتیں کہاں سے عطا کر دیں گے۔نہ ان کو طاقت ہے نہ اخروی زندگی کا علم ہے، نہ اس پر ایمان ہے، نہ اس کی ایک ہلکی سی جھلک اس دنیا میں دیکھنے والے اور نہ وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرے اور ان کی عقلوں کو تیز کرے۔جس شریعت پر، جس اسلام پر عمل کر کے اجر ملنا ہو اور وہ اجر سوائے خدا کے کسی اور نے نہ دینا ہو اس کے متعلق یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انسان اسلام دے سکتا ہے۔اس لئے اسلام چونکہ ایک بڑی اہم چیز ہے اور بڑی بنیادی چیز ہے۔اس نے تو دنیا کی کایا پلٹ دی تھی پہلے زمانے میں اور اس نے دنیا میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں اس زمانے میں ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر روحانی فرزند کے زمانہ میں ) نوع انسانی کو اسلام کی حسین تعلیم سے روشناس کرانا ہے اور اپنی دعاؤں سے اور اپنے جذب سے اور اپنے عمل سے اور اپنے اُسوہ سے اسلام کی طرف ان کو لے کر آنا ہے۔اس حزب اللہ نے اپنی دعاؤں سے ایسے حالات پیدا کرنے ہیں کہ نوع انسانی اپنے پیار کرنے والے خالق اور رب کو پہچاننے لگے اور اس کی جو شریعت ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے تھے اس کے مطابق اور خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق عمل کرنے والے بن جائیں۔دوست دعا کریں کہ ہم خدا سے اسلام پائیں اور خدا سے یہ توفیق پائیں کہ اسلام پر قائم