خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 237

خطبات ناصر جلد ششم ۲۳۷ خطبه جمعه ۲۸ /نومبر ۱۹۷۵ء بھی رہیں اور خدا سے اس کا اجر پائیں اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی۔اس کام کے لئے جو جماعت پیدا کی گئی ہے اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔پس تم اپنے اسلام کی بھی فکر کرو۔اسلام کے حصول کے لئے بھی خدا سے دعائیں کرو اور اسلام پر قائم رہنے کے لئے بھی دعائیں کرو اور دنیا کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی بھی فکر کرو۔جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ کام اسلام کا نمونہ بن کر خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن کر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر اور اپنی عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ہوسکتا ہے اس لئے دوست بہت دعائیں کیا کریں۔جس دعا کی حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے بزرگ نبی کو ضرورت تھی میں یا آپ اس دعا سے کیسے بے نیاز ہو سکتے ہیں۔پس ہر وقت یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا ! ہمیں پورے کا پورا اسلام دے اور اسلام پر ہمیشہ قائم رکھ۔چنانچہ خدا نے ایک اور نبی سے یہ دعا کہلوائی تَوَفَّنِي مُسْلِمًا اے خدا! مجھے اسلام کی حالت میں وفات دے۔غرض سارے کا سارا قرآن کریم اسی طرف اشارے کر رہا ہے کہ اسلام خدا سے ملتا ہے اور انسان اسلام پر خدا ہی کی دی ہوئی توفیق سے قائم رہتا ہے۔اس کا بڑا اجر ہے۔اس تعلیم پر عمل کر نا خسارے کا سودا نہیں ہے لیکن یہ اجر دنیا کے کسی کارخانے سے نہیں مل سکتا نہ دنیا کے کسی کنسرن (Concern) سے یا منڈیوں سے مل سکتا ہے صرف خدا سے مل سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدة : ٣١) اس آیت کریمہ میں بڑا لمبا مضمون بیان ہوا ہے۔میں طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے خطبہ مختصر کر رہا ہوں۔صرف دو باتیں کہنا چاہتا ہوں ایک یہ کہ اس اجر کی جس کا خدا نے وعدہ دیا ہے بڑی عظمت ہے۔قرآن کریم نے اس کی جو عظمت بیان کی ہے انسان حیران ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے عاجز گناہگار بندے بھلا اس عظیم نعمت کے لائق کیسے ہو سکتے ہیں۔ہم واقعی اس لائق نہیں لیکن خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے عاجز بندوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے اور اپنے