خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 206
خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۶ خطبه جمعه ۱۴ /نومبر ۱۹۷۵ء ایک کمرے میں بطور معاون کام کر رہا تھا۔میری عمر اس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ میرے بزرگ حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ جو اس وقت جلسہ سالانہ کے انچارج ہوتے تھے وہ اپنے دفتر میں میری ڈیوٹی تو لگا دیتے تھے لیکن ان کی طرف سے ڈیوٹی لگانے کا مطلب صرف یہ ہوتا تھا کہ مجھے جلسہ سالانہ کے کام کرنے کی عادت پڑ جائے۔ورنہ اس عمر میں جو عام جلسہ کا انتظام ہے اس قسم کے کام میں نہیں کر سکتا تھا۔بس کبھی وہ مجھے کوئی پیغام دے کر بھیج دیتے تھے کبھی ویسے ہی بٹھائے رکھتے تھے اور میں ان کو کام کرتے دیکھتا رہتا تھا یا ان کے کاغذ وغیرہ ٹھیک کرتا رہتا تھا۔ایک دن رات کے وقت جبکہ قریباً سب مہمان کھانا کھانے سے فارغ ہو چکے تھے وہ مجھ سے کہنے لگے مدرسہ احمدیہ کے کمروں میں جا کر دیکھ آؤ۔کیا سب مہمان ٹھیک ٹھاک ہیں ان کو کھانا مل گیا ہے یا نہیں۔آیا سب آرام سے ہیں کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں؟ چنانچہ میں مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرہ کے دروازہ پر جب پہنچا تو اس کا دروازہ ذرا سا کھلا تھا۔ان دنوں جلسہ سالانہ کے دوران رضا کاروں کو رات کے وقت ایک دو بار چائے کی پیالی بھی مل جایا کرتی تھی۔میں نے دیکھا کہ ایک رضا کا را پنی چائے کی پیالی لے کر جب کمرے میں آیا تو وہاں ایک مہمان بیمار پڑا تھا اسے غالباً لرزہ کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا اسے خیال آیا کہ یہ بچہ شاید مجھے بیمار دیکھ کر میرے لئے چائے لے کر آیا ہے۔چنانچہ عین اس وقت جب میں ذرا سا دروازہ کھول کر اندر جانے لگا تو اس بیمار دوست نے پوچھا میرے لئے چائے لے کر آئے ہو؟ مجھے تو پتہ تھا کہ یہ فلاں لڑکا ہے ( جو اس وقت مجھ سے ذرا بڑا ہو گا ) اور یہ اپنے لئے چائے لے کر آیا ہے۔میں باہر کھڑا ہو گیا یہ دیکھنے کے لئے کہ اب اس کا رد عمل کیا ظاہر ہوتا ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک لمحہ کے لئے اس طفل نے یہ نہیں ظاہر ہونے دیا کہ وہ اپنے لئے چائے لے کر آیا ہے۔وہ فوراً کہنے لگا ہاں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔آپ یہ چائے پئیں۔اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ آپ کے لئے چائے لے کر آیا ہوں کیونکہ اس طرح غلط بیانی ہو جاتی۔پس بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے لیکن یہ معمولی سا واقعہ بھی بتا رہا ہے کہ جو ہمارے کم عمر احمدی بچے ہیں یا نو جوان اور بڑی عمر کے جلسہ سالانہ کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں اور جلسہ سالانہ کے