خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 192
خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۲ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء عیسائیت کو چھوڑ بیٹھی۔لیکن اسلام کے خلاف جو یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔یہ اعتراض ان کے دماغوں سے نہیں نکلا۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ۱۹۶۷ ء میں زیورچ ( سوئٹزر لینڈ ) میں T۔V کا ایک گروپ میرے انٹرویو کے لئے آیا۔انہوں نے ایک سوال یہ کیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کو کیسے پھیلائیں گے؟ یہ سیدھا سادہ سوال بڑے ادب سے پوچھا گیا تھا لیکن دراصل ان کے دماغ کی جو کیفیت تھی وہ یہ تھی کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلتا ہے اور تلوار ہم نے تمہارے ہاتھوں سے چھین لی ہے اب تم اسلام کو کیسے پھیلاؤ گے۔میں نے سوچا کہ عیسائی پادریوں نے ان کے دلوں میں عیسائیت قائم رکھنے کی جو کوشش کی وہ اس میں تو نا کام ہو گئے ہیں لیکن یہ اعتراض ابھی تک ان کے دلوں میں راسخ ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔میں نے جو حقیقت تھی وہ بغیر کسی تکلف کے اسی وقت ظاہر کر دی۔میں نے کہا کہ ہم پیار اور محبت سے تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام کو پھیلائیں گے۔ان کا رد عمل اس طرح تھا کہ جس طرح کسی کو پکڑ کے ایک جھٹکا دیا جائے کہ یہ کیا جواب ہمیں مل گیا ہے اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو ہم ضرور T۔V پر لانا چاہتے ہیں۔میں نے کہا کہ میری بھی یہ خواہش ہے کہ ضرور T۔V پر لاؤ کہ اسلام دلوں کو جیت کر تمہارے ملکوں میں پھیلے گا۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے یہ تدبیر کی ہے کہ نوع انسانی کو بحیثیت نوع انسانی اسلام میں داخل کرے۔الا مَا شَاء الله - کچھ لوگ چوہڑے چماروں کی طرح غیر مسلموں میں سے باقی بچ جائیں جو اسلام نہ لائیں تو اور بات ہے لیکن نوع انسانی اسلام کو پیار اور محبت کے نتیجہ میں قبول کرے گی اور توحید پر قائم ہوگی اس محبت کے نتیجہ میں جو اسلام ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ہمارے ذمے یہ لگایا گیا ہے کہ ہم اسلامی تعلیم کو اسلام کی پیار کی تعلیم کو اور بے نفس خدمت کی تعلیم کو ان کے سامنے پیش کریں۔اس اعتراض کو جو صدیوں سے اسلام پر کیا جا رہا ہے اس اعتراض کو کہ اپنے مذہب کو انہوں نے چھوڑ دیا مگر ان کے دماغ اسلام پر اس اعتراض کو نہیں چھوڑ سکے اس اعتراض کو آج ہم نے دور کرنا ہے۔ان کے دلوں سے اس کو مٹانا ہے ان کے ذہنوں سے اس نقش