خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 179
خطبات ناصر جلد ششم 129 خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء کوسنگ بنیا در کھا اُن دنوں وہاں سردی کی ایک رو آئی اور بہت بارشیں شروع ہو گئیں۔جس وقت ہم ۲۵ رستمبر کو لندن سے روانہ ہوئے تو موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔اب آج کل وہاں موسلا دھار بارش بھی ہو جاتی ہے جب میں وہاں پڑھا کرتا تھا تو اُس زمانے میں انگلستان میں بالکل باریک پھوار پڑا کرتی تھی وہ بارش نہیں ہوا کرتی تھی جس کو ہم بارش کہتے ہیں لیکن اب وہاں بھی بارش ہونے لگی ہے موسم بدل گئے ہیں۔غرض جب ہم ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات ڈیڑھ بجے کے قریب گوٹن برگ پہنچے تو پتہ لگا کہ دو دن سے متواتر بارش ہورہی ہے اور جو بارش کی پیش خبریاں دیتے ہیں اُنہوں نے اعلان کیا ہے کہ کل بھی بارش ہوگی اور اُسی روز گیارہ بجے سنگ بنیاد رکھنا تھا۔چنانچہ پہلے تو میرے دماغ میں یہ دعا آئی کہ اے خدا! ہمیں کھلا موسم دے۔یہ بھی ایک دعا ہے یہ بھی ہم ما نگتے ہیں۔پھر مجھے خیال آیا کہ آج تو ہمیں کہنا مناسب نہیں۔تو میں نے دعا یہ کی کہ اے خدا! تیرے گھر کی بنیاد رکھنے کے لئے کل ہم اکٹھے ہو رہے ہیں۔تیری مسجد کی بنیادر کھنے کے لئے جس قسم کے موسم کی ضرورت ہے وہ ہمیں دے۔چنانچہ بتایا تو ہمیں یہ گیا تھا کہ موسلا دھار بارش ہو گی لیکن صبح جب ہم اُٹھے تو سورج نکلا ہوا تھا اور بہت اچھا موسم تھا۔اپنی زمین پر گئے مسجد کی بنیاد رکھی۔اس موقع پر کوئی تین سو سے زیادہ احمدی اکٹھے ہوئے ہوئے تھے اور بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے جن میں کچھ عیسائی تھے اُنہوں نے بھی اب اسلام میں دلچسپی لینی شروع کی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے سنگ بنیا درکھنے کی تقریب بڑی اچھی رہی۔ہم وہاں سے فارغ ہوئے اور واپس آئے تو بارہ ایک بجے پیش خبری کے مطابق بڑے زور سے بارش شروع ہو گئی۔بس وہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے چند گھنٹے دعا کو قبول کیا اپنے پیار سے اور اپنی مسجد کی بنیاد کے لئے جس قسم کے موسم کی ضرورت تھی وہ ہمیں دے دیا۔ہمیں وہاں جو زمین ملی ہے اس میں بھی خدا کی شان نظر آتی ہے وہاں دو کمیٹیاں ہیں جن میں سے ہماری مسجد کی زمین ہی نہیں بلکہ ہر وہ زمین جو کسی کو الاٹ کرنی ہو اس کا معاملہ ان دو کمیٹیوں سے گزرتا ہے۔ایک کمیٹی تو صرف اتنا فیصلہ کرتی ہے کہ یہ پارٹی اس قابل ہے کہ اس کو