خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 178
خطبات ناصر جلد ششم KLA خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء کا امام اور جماعت احمد یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں یعنی جماعت احمد یہ بغیر امام کے کوئی وجود نہیں رکھتی اور جماعت احمدیہ کا امام جماعت احمدیہ کے بغیر کوئی وجود نہیں رکھتا۔پس یہ دونوں دراصل ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور ان کا باہمی اتحاد اور اتصال اور تعلق بڑا گہرا ہے اور بڑا مضبوط اور مستحکم ہے۔بیماریاں عملاً اس تعلق کو تو ڑ نہیں سکتیں لیکن دوری کا کچھ سایہ بیچ میں آجاتا ہے وہ سایہ بھی نہیں آنا چاہیے لیکن وہ تو میرے اور آپ کے اختیار کی بات نہیں۔خدائے شافی اپنا فضل فرمائے اور وہ اپنی رحمت سے آپ کو بھی صحت سے رکھے اور سب کی دعاؤں سے مجھے بھی صحت سے رکھے اور جماعتی زندگی کے جس عظیم اور بڑے اہم اور نازک مرحلے میں ہم داخل ہوئے ہیں اس کی ذمہ داریوں کو نباہنے کے ہم قابل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے۔بعض لوگ چونکہ خدا پر ایمان نہیں رکھتے ظاہر ہے کہ جب خدا پر ایمان نہیں تو اس کی رحمتوں اور اس کے فضلوں اور اس کی برکتوں اور ان کے نتائج پر بھی ان کا ایمان نہیں ہوتا۔ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ برکتیں کہاں سے آگئیں جماعت احمد یہ میں۔یہ صبر کہاں سے آگیا جماعت احمدیہ میں یہ مضبوطی اور استحکام کیسے پیدا ہو گیا جماعت احمد یہ میں۔کئی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے ۱۹۷۴ء میں تمہارے ساتھ اتنا کچھ کر دیا مگر تمہارے اندر کوئی فرق نہیں پڑا۔فرق نہ پڑنا تو ہماری زبان میں نہیں ہے کیونکہ ہم تو فرق پڑنے والی قوم ہیں کیونکہ ہر دن جو ہم پر طلوع ہوتا ہے وہ ہمیں پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ دیکھتا ہے وہ اسلام کو پہلے سے زیادہ غالب پاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت دنیا میں جماعت احمدیہ کی حقیر کوششوں کے نتیجہ میں اسلام کا غلبہ ظاہر ہو رہا ہے۔اس دورے میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے بڑے نشان دیکھے، بہت سے نشان دیکھے۔ایک چھوٹا سانشان بیان کر دیتا ہوں بعض دفعہ خدا تعالیٰ کا ایک چھوٹا سا پیار بھی بہت مزہ دیتا ہے۔دوستوں نے اخبار میں پڑھا ہوگا کہ سویڈن کے ملک میں گوٹن برگ کے شہر میں میں نے ایک مسجد کا سنگ بنیا درکھا ہے اس کے ساتھ مبلغ کے رہنے کے لئے مشن ہاؤس، لائبریری ،لوگوں کو بٹھانے اور تقریر کرنے کے لئے ہال ضروری ہے۔یہ پورا ایک پروجیکٹ ہے اس کا ۲۷ ستمبر