خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 160
خطبات ناصر جلد ششم 17۔خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۷۵ء حق پرستوں کے سینوں پر گرم پتھر رکھے جاتے تھے اور نیچے زمین پر بھی آگ کی طرح پتے پتھر ہوتے تھے اس حالت میں بھی ان کے منہ سے یہی آواز نکلتی تھی کہ اللہ احد کہ اللہ ایک ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس یقین سے پر تھے کہ فی الحقیقت خدا ہے وہ اس یقین سے پر تھے کہ ان کا خدا ساری طاقتوں کا مالک ہے، وہ اس یقین سے پر تھے کہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دعوے میں صادق ہیں اور خدا کے سچے رسول ہیں، وہ اس یقین سے پر تھے کہ اسلام بہر حال غالب آئے گا اور وہ خودان رحمتوں کے وارث بنیں گے جن کا وعدہ کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والوں کو صحابہ کے سے انعام ملیں گے لیکن انہیں صحابہ کی سی تکالیف بھی برداشت کرنا پڑیں گی۔ہم اس یقین سے لبریز ہیں کہ جو بشارتیں چودہ سوسال سے اس وقت تک دی گئی ہیں اور جو خبر میں بطور بشارت حضرت مہدی موعود علیہ السلام کو ملی ہیں وہ ضرور پوری ہوں گی۔حضور ایدہ اللہ نے مزید فرما یا ہماری جماعتی زندگی پر ۸۵ سال گزر چکے ہیں۔جس طرح بتایا گیا تھا جماعت احمدیہ کی زندگی اسی طرح Unfold ہوئی ہے۔میں دو مثالیں بیان کر دیتا ہوں۔ان میں سے ایک پوری ہو چکی ہے اور دوسری کے پورا ہونے میں ہمیں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہے۔پہلی مثال یہ ہے کہ جس دن لینن اور اس کے ساتھیوں نے سر جوڑ کر انقلاب روس کا منصوبہ بنایا اس سے دو ہفتہ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا کہ زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار یہ لمبی پیشگوئی ہے اور یہ اس کا صرف ایک حصہ ہے جس میں زار روس اور اس کے اقتدار کے خاتمہ کی خبر دی گئی تھی۔ایک دفعہ ایک روسی سائنسدان پاکستان آیا ہم نے اُسے دعوت دے کر ربوہ بلا یا۔جب وہ ربوہ آیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب تمہارے لیڈر لین کو ابھی پتہ بھی نہ تھا ہمیں معلوم تھا کہ تمہارے ملک میں کیا ہونے والا ہے۔میں نے اور بھی پیشگوئیاں اُسے بتا ئیں۔وہ سن کر بہت حیران ہوا اور اس نے بڑے تعجب کا اظہار کیا۔الغرض یہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو پوری ہوئی اور ہم نے اسے پورا ہوتے دیکھا۔اس سے بھی زیادہ ایک عظیم پیشگوئی