خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 157

خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۷ خطبه جمعه ۱٫۳ کتوبر ۱۹۷۵ء جماعت احمدیہ کی پہلی صدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سے مشابہت رکھتی ہے خطبه جمعه فرموده ۳/اکتوبر ۱۹۷۵ء بمقام مسجد نصرت کو پن ہیگن۔ڈنمارک (خلاصه خطبه ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جب سے اس دنیا میں انبیاء علیہم السلام کی بعثت شروع ہوئی دو قسم کے انبیاء آتے رہے ہیں۔ایک وہ جو صاحب شریعت اور صاحب حکم ہوا کرتے تھے اور ایک وہ جو کسی شریعت کے تابع ہو کر آتے تھے اور جو بدعات پہلے سے نازل شدہ دین میں پھیلی ہوئی ہوتی تھیں انہیں دور کر کے دین کو اس کی اصلی اور خالص شکل میں از سر نو پیش کرتے تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں انبیاء بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيهَا هُدًى وَ نُور يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا (المائدة : ۴۵) اس آیت سے ظاہر ہے کہ تو رات بطور شریعت کے نازل تو موسیٰ علیہ السلام پر ہوئی تھی لیکن بعد میں ایسے انبیاء آئے جو خود بھی اس شریعت پر عمل کرتے رہے اور دوسروں سے بھی اس پر عمل کراتے رہے يَحكُم بِهَا النَّبِيُّونَ کا یہی مطلب ہے۔حضور نے دونوں قسم کے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ فرق تو انبیاء علیہ السلام کے