خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 155

خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۵ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۷۵ء اس کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رقم فرمودہ تفسیر کے وہ حصے پڑھ کر سنائے جو اس وضاحت پر مشتمل ہیں کہ اعتقادی اور عملی طور پر اپنے وجود کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے سے کیا مراد ہے نیز یہ کہ طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کا مطلب کیا ہے اور پھر یہ کہ نفس پر موت وارد کرنے کے بعد محسن اللہ ہونے کے نتیجہ میں انسان جس نئی زندگی سے ہمکنار ہوتا ہے اس کی نوعیت اور کیفیت کیا ہوتی ہے۔یہ حقائق و معارف سے لبریز اقتباسات سنانے کے بعد حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی ان دو آیات میں یہ بتایا ہے کہ یہود اور نصاریٰ کا اپنی اپنی جگہ یہ کہنا کہ بجز یہودیوں کے اور کوئی جنت میں نہیں جائے گا یا بجز نصاریٰ کے جنت میں جانے کا اور کوئی مستحق قرار نہیں پائے گا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس حقیقی مسلمان کو جنت میں جانے کا حقدار قرار دے گا جو اپنے وجود کو اعتقادی اور عملی طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دکھائے اور جو اس درجہ محسن للہ ہو کہ بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اس میں اور کچھ باقی نہ رہے اس کے جنت کا مستحق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ فَلَةَ اجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کی رو سے خدا تعالیٰ ایسے حقیقی اور کامل فرمابردار مومن کو اسی دنیا میں جنت عطا کر دیتا ہے۔وہ جس حال میں بھی ہو دم نقد بہشت میں ہوتا ہے۔پھر وہ اگلے جہان میں بھی اسے جنت عطا کرے گا۔سو گویا وہ ایک جنت سے نکل کر دوسری جنت میں داخل ہو جائے گا۔حضور نے فرمایا سورۃ بقرۃ کی ان آیات کی رُو سے کسی کے جنت کا مستحق ہونے کا فیصلہ خدا نے کرنا ہے۔انسانوں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود اپنے یا کسی اور کے جنت میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کریں۔جو یہ فیصلہ کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف رکھنا ہے جس نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے اور محسن اللہ ہو کر اسی دنیا میں جنت حاصل نہیں کی وہ محض رسمی تعلق کی بنا پر اگلے جہان میں جنت میں کیسے چلا جائے گا جائے گا وہی جو بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن کا مصداق ہوگا اور کون اس کا مصداق ہے اور کون نہیں ہے یہ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اس کا فیصلہ اس نے ہی کرنا ہے یہ فیصلہ کرنے کا