خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 97
خطبات ناصر جلد ششم ۹۷ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء اور اس کا حسن اسی وجہ سے تھا کہ اُن کے اندر کوئی تضاد نہیں پایا جاتا تھا۔احباب جماعت نے مصائب و مشکلات میں بھی کہا تو یہی کہا کہ ہم نے خدا کی آواز کو سنا اور پہچانا اور اسی کے لئے ہماری زندگی ہے اور اس میں ہم خوش ہیں اور راضی ہیں۔انہیں دُکھ دیئے جا رہے تھے مگر وہ مسکراتے چہروں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔یہ گویا عجیب نظارہ تھا جو غیروں کو پاگل کر دینے والا تھا کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ اپنی طرف سے سب کچھ کر رہے ہیں لیکن ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا۔یہ وہ حقیقی مقام ہے جس پر جماعت احمد یہ قائم ہے یہ ایک سال کے لئے تو اُسے نہیں دیا گیا تھا بلکہ خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ جماعت اپنے اس مقام پر ہمیشہ کھڑی رہے اور وہ اپنے اندر ہمیشہ عظمت اور حسن پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہے۔یہی حسن ہے جس کے ساتھ ہم نے دنیا کے دل جیتنے ہیں۔جماعت احمدیہ کے ایک حصہ کے اموال اور دولتیں اور مکان اور ڈکا نہیں گئیں اور جلائی گئیں لیکن جب زلزلہ آیا تو جماعت نے اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے پیسے دے دیئے اور یہ نہیں کہا کہ جب ہم مصیبت میں تھے تو انہوں نے ہمارا خیال نہیں رکھا بلکہ یہ کہا کہ جب میرے محبوب اور پیارے اللہ کی یہ مخلوق مصیبت میں ہے تو ہمارے مال بہر حال اس کے کام آئیں گے کیونکہ ہماری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کو حاصل کرنا ہے۔پس جماعتِ احمد یہ کو جو مقام حاصل ہوا وہ اس وجہ سے ہوا کہ ہماری زندگی تضاد سے پاک زندگی ہے یہ نہیں کہ ایک طرف خدا سے ڈرتے ہیں اور دوسری طرف دنیا سے ڈرتے ہیں بلکہ ہم خدا تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہیں:۔فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوني ( البقرة :۱۵۱) قرآن کریم ان مثالوں سے بھرا پڑا ہے جمعہ کی نماز کے خطبہ میں انسان مختصر آبات کرتا ہے ایک یہ کہ اگر تم خدا سے بھی ڈرو گے اور کسی اور سے بھی ڈرو گے تو تمہاری زندگی میں تضاد پیدا ہو جائے گا اس لئے فرمایا: - فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي لوگوں سے نہیں ڈرنا بلکہ مجھ (اللہ ) سے ڈرنا ہے کیونکہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے خشیت صرف اسی کی ہمارے دل میں پیدا ہونی چاہیے۔جماعت احمدیہ نے دنیا کو خشیت اللہ کا عجیب نظارہ دکھایا۔میں نے کئی بارا اپنی مجلسوں میں بھی یہ کہا کہ گو ہر جلسہ سالا نہ کوئی نہ کوئی رنگ لے کر آتا ہے کیونکہ ہمارے جلسہ سالانہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا سایہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے