خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 77
خطبات ناصر جلد ششم LL خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء بٹالین کو تو ڑا جائے؟ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ فرقان بٹالین ۱۹۵۱ء میں توڑ دی گئی تھی۔اس موقع پر با قاعدہ ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں فرقان بٹالین کو Disband کرنے کا اعلان کیا گیا۔سارے کے سارے ہتھیار اور ایمونیشن با قاعدہ گنتی کر کے فوج نے واپس لے لیا اور اس کی ہمیں رسیدیں دیں اور ساتھ ہی فوج نے ایک سرٹیفکیٹ بھی دیا کہ فرقان بٹالین نے بہت اچھا کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اعتراض کئے جارہے ہیں اور ہم اُن کو بشاشت کے ساتھ ٹن رہے ہیں۔یہ اعتراض تو ہوتے ہی رہتے ہیں ہمیں تو اپنے کام سے غرض ہے یہ تو بیچ میں ضمناً ایک بات آ گئی جسے میں نے مختصراً بیان کر دیا ہے۔بہر حال ۱۹۴۷ ء میں حالات بڑے تکلیف دہ تھے۔ہندوستانی فوجوں کی یلغار کو روکنے کے لئے اور بھی بہت سے ایثار پیشہ لوگ قوم کی خاطر محاذ جنگ پر لڑنے کے لئے گئے۔صرف احمدیوں کی فرقان بٹالین ہی نہیں تھی۔ہمارے دائیں بائیں جو بٹالین تھیں وہ بھی رضا کاروں پر مشتمل تھیں۔اُن میں سے کسی نے بہت اچھا کام کیا کسی نے درمیانہ درجہ کا کام کیا، یہ ایک الگ بات ہے مگر جہاں تک ملک کی خدمت کا سوال ہے سب رضا کا رقوم کی بقا کی خاطر اپنی جانیں دینے کے لئے محاذ جنگ پر پہنچے تھے اور دشمن کے سامنے سینہ سپر تھے۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ مسئلہ کوئی عملی مسئلہ نہ تھا جس کو صرف بحث و تمحیص حل کر سکتی۔یہ تو ایک انسانی مسئلہ تھا انسانیت کے ایک گروہ پر ظلم ہور ہا تھا اُن سے نا انصافی کی جارہی تھی۔اس مسئلہ کو انسانی حقوق کے پیش نظر حل کرنا چاہیے تھا مگر پچھلے ۲۷ برس میں اقوام متحدہ نے اس مسئلہ کو حل نہیں کیا کیونکہ آہستہ آہستہ اس بین الاقوامی تنظیم کی رنگت بدلتی چلی آرہی ہے۔در اصل اقوام عالم کی بہبود کے لئے یہ تنظیم قائم کی گئی تھی مگر یہ دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے کہ یہ عالمی تنظیم اقوام عالم کی بہبود کی بجائے چند گنتی کی قوموں اور حکومتوں کے مفاد کی خاطر کام کر رہی ہے۔انصاف کی خاطر کام کرنے کی جرات نہیں کر رہی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی مشہور کتاب ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب تک اسلام اور قرآن عظیم کے بتائے ہوئے اصول کی بنیادوں پر بین الاقوامی تنظیم