خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 76

خطبات ناصر جلد ششم ۷۶ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء کے لئے وہ زمانہ بڑی تکلیف کا زمانہ تھا چنانچہ اُس وقت جو دفاع کی شکل بنی اس میں بہت سی رضا کار بٹالین بھی شامل تھیں۔پاکستان کی فوجی تنظیم نے جماعت احمدیہ کے پیچھے پڑ کر اور بار بار کی درخواستوں اور بڑے اصرار سے ایک احمدی بٹالین بھی تیار کر وائی اور اس کا نام فرقان بٹالین رکھا گیا۔یہ وہی فرقان بٹالین ہے جس کے متعلق احباب آئے دن غلط قسم کے اعتراضات سنتے رہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت کے ایماء پر قائم ہوئی۔شروع میں اسے بغیر بیونٹس کے رائفلیں دی گئیں اور غریبانہ طور پر راشن دیا گیا اور شرط یہ لگا دی کہ سارے کے سارے نوجوان احمدی ہوں گے۔علاوہ ازیں یہ شرط بھی عائد کر دی کہ رضا کاروں کی یونیفارم کا انتظام جماعت کرے گی۔راشن وغیرہ لے جانے کے لئے آٹھ یا دس گدھیاں دی گئیں جنہوں نے محاذ جنگ پر بڑا کام دیا کیونکہ وہاں سڑکیں وغیرہ تو تھی نہیں۔راشن میں اکثر اوقات مسور کی دال ملتی تھی جس میں بگار لگانے کے لئے مونگ پھلی کا تیل ملتا تھا اور چائے پکانے کے لئے کالا گر۔بہر حال اُس وقت تو قربانی کا وقت تھا ملک کو مصیبت پڑی ہوئی تھی ان حالات میں فرقان بٹالین نے بڑی بشاشت کے ساتھ جانی قربانی بھی دی۔رضا کار زخمی بھی ہوئے وقت کی قربانی بھی دی موت کے منہ میں جانے کے لئے ہمارے رضا کا ر ہر وقت تیار بھی رہے چنانچہ بلا ناغہ ہر رات ہمارے کچھ نو جوان پٹرول کی شکل میں دشمن کے علاقے میں گھس جاتے۔بربط کی پہاڑیوں پر ہمارا کیمپ تھا سامنے ریچھ پہاڑی تھی جس پر ہندوستانی فوجیں قابض تھیں۔ان کے درمیان سعد آباد وادی کے اندر دشمن کے سپاہی اُترا کرتے تھے مگر جب فرقان بٹالین وہاں پہنچی تو ایک ہفتہ کے اندر اندر ہندوستانی فوجوں سے وہ علاقہ چھین لیا گیا اس معنی میں کہ ان کے دل میں خوف پیدا ہو گیا اور اُنہوں نے وادی میں اُترنا چھوڑ دیا۔بہر حال خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور اپنے ملک کی محبت میں سرشار ہو کر جماعت احمد یہ کے رضا کاروں نے اس وقت بھی قربانی دی جب وہ محاذ پر تھے اور اب بھی قربانی دے رہے ہیں کہ لوگوں کے اعتراض سُن رہے ہیں مگر جواب نہیں دیتے اور ہمیں جواب دینے کی ضرورت بھی کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ فرقان بٹالین ابھی تک قائم ہے اور اس کے پاس ہتھیار ہیں اس لئے اس