خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 73 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 73

خطبات ناصر جلد ششم ۷۳ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء We will not and cannot back out of it۔" اس نشری تقریر سے اگلے دن یعنی ۳/ نومبر کو پنڈت نہرو نے ہمارے اُس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک تار دیا جس میں اُنہوں نے کہا: "I have stated our Government's policy and made it clear that we have no desire to impose our will on Kashmir but to leave final decision to people of Kashmir۔I further stated that we have agreed to an impartial international agency like United Nations supervising any referendum۔' غرض پنڈت نہرو نے اپنی تقریر میں یہ اعلان کیا کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ آخر کار کشمیری عوام ہی کریں گے اور یہ بھی کہ یہ ایک عہد ہے جس کا ہم نے اعلان کیا اور یہ عہد ہم نے صرف کشمیری عوام کے ساتھ نہیں کیا بلکہ دنیا کو مخاطب کر کے ہم نے یہ اعلان کیا ہے کہ یہ ہمارا عہد ہے اور ہم کسی صورت میں اس کے خلاف کام نہیں کریں گے اور پھر انہوں نے لیاقت علی خان بذریعہ تاریہ کہا کہ میں نے اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے اور اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ ہماری کوئی خواہش نہیں ہے کہ ہم کشمیری عوام پر زبردستی اپنی رائے ٹھونیں۔آخری فیصلہ بہر حال کشمیری عوام ہی کریں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ ہم اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ کوئی بین الاقوامی تنظیم مثلاً اقوام متحدہ ریاست میں ریفرنڈم کرائے یا بعد میں اس کا نام Plebiscite یعنی رائے شماری رکھا گیا گویا بین الاقوامی تنظیم اپنی نگرانی میں رائے شماری کروائے۔پس دنیا کے انسانی ضمیر سے یہ عہد کیا گیا تھا کہ کشمیریوں پر کوئی ملک زبر دستی اپنی رائے نہیں ٹھونسے گا۔آخر کا ر کشمیری عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے ہندوستان جو کچھ کر رہا ہے یہ بالکل عارضی ہے۔اس کے بعد اسی پس منظر میں بین الاقوامی تنظیم یعنی اقوام متحدہ نے بہت سے فیصلے کئے کچھ سلامتی کونسل نے اور کچھ جنرل اسمبلی نے۔چنانچہ ۱۴ مارچ ۱۹۵۰ء کی ایک قرارداد ہے اس میں