خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page viii
VI 66 اجازت میں بعض ٹیکنیکل نقائص تھے اس لئے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکے۔اب ویسے وہاں کی حکومت بدل گئی ہے لیکن دنیا کے تغیرات ہمارے لئے ہیں ہمارے خلاف نہیں انشاء اللہ۔اس لئے آج نہیں تو کل اجازت ملے گی اس کے اوپر بھی لاکھ دولاکھ پاؤنڈ ابتدا میں خرچ ہوگا تا کہ ہم ایک خاص علاقے کو اپنی آواز سے معمور کر دیں اور مہدی معہود کی آوازان کو پکارے کہ جَاءَ الْمَسِيحُ جَاءَ الْمَسِيحُ ۸۔۵/ دسمبر ۱۹۷۵ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اہل ربوہ کو صفائی اور پاکیزگی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ربوہ کے ماحول کو پاک کرو۔پاکیزہ رہو۔درخت لگاؤ یہ اپنے لئے نہیں ہے اس کے پیچھے یہ نیت ہے کہ جو باہر سے آنے والے ہیں وہ کچھ نمونہ تو دیکھیں۔گوغریبانہ کوششیں ہوں لیکن غریبانہ کوششیں تو دیکھیں۔پس وہ گندگی ، وہ جہالت اور وہ ظلمت جو دنیا کے دوسرے حصوں میں ہمیں نظر آتی ہیں وہ ربوہ میں نظر نہیں آنی چاہیے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو اور ہمیں اس کی توفیق ملے۔آمین ۹ - ۹را پریل ۱۹۷۶ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے وقف عارضی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔وقف عارضی کے جو وفود باہر دوسری جگہوں پر جائیں وہاں بھی اور پھر واپس آ کر اپنے ہاں بھی یہ بات اچھی طرح دلوں میں گاڑ دیں کہ اسلام کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔اپنی جانوں کو چھوڑ سکتے ہیں، اپنے مالوں کو چھوڑ سکتے ہیں ، اپنے بیوی بچوں کی گردنیں کٹوا سکتے ہیں لیکن اسلام کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کسی صورت میں بھی کوئی احمدی اپنے آپ کو اسلام سے دور نہیں کہہ سکتا، اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں کہہ سکتا۔باقی اگر کوئی شخص ہمیں کا فر کہتا ہے تو یہ نئی بات نہیں ۸۰ اسی سال سے ہمیں کا فر کہا جا رہا ہے۔66 ۱۰ - ۲۲ اکتوبر ۱۹۷۶ ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت ضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔”ہماری جو پچھلی تاریخ ہے اور جو تاریخ ہماری آگے اُبھری ہے اور جس کے متعلق