خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 625 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 625

خطبات ناصر جلد ششم ۶۲۵ خطبہ جمعہ ۱۷ ردسمبر ۱۹۷۶ء راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔جہاں گذشتہ سالوں میں دس افراد ایک چھوٹے سے کمرے میں رہے وہاں ۱۲۔۱۵ آدمی ٹھہر گئے جسمانی طور پر اور زیادہ سکڑ گئے تا کہ اور زیادہ وسعت پیدا ہو اُن کے ماحول میں روحانی طور پر اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو وہ پہلے سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں پس آنے والوں نے بھی ایک ایسا نمونہ دکھایا جو کہیں اور نظر نہیں آتا اور ان کی میزبانی کرنے والوں یعنی اہلِ ربوہ نے بھی ایک ایسا نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال ہمیں اور کہیں نظر نہیں آتی۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دو کو احسن جزا دے اور یہ توفیق دے کہ خدا تعالیٰ کی اس رحمت کے جلوے دیکھنے کے بعد پہلے سے زیادہ اس کی حمد کے ترانے گانے والے ہوں۔اگر چہ ہمیشہ ہی جلسہ سالانہ پر فضا پر سکون رہتی ہے لیکن اس دفعہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ویسی نہیں رہے گی جیسی کہ ہماری احمدیت کی فضا ہوتی ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا جس میں کوئی شور نہیں ہوتا کوئی بے ترتیبی نہیں ہوتی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں میں کوئی لڑائی جھگڑ انہیں ہوتا لیکن خدا کا شکر ہے نہایت پیار اور سکون کے ساتھ یہ دن گزر گئے اور ہمیں پتہ ہی نہیں لگا کہ کب جلسہ آیا اور کب ختم ہو گیا کب خوشیوں سے ہماری روح معمور تھی اور کب جانے والوں کے جانے کے نتیجہ میں اُداسی ہم پر چھا گئی۔لیکن یہ اُداسی ایک بالکل بار یک پردہ ہے جس کے ورے بھی اور جس کے پرے بھی خدا تعالیٰ کے حسن اور نور اور احسان کے جلوے ہمیں نظر آتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا شکر ادا کیا کرو اور میری حمد سے اپنے نفوس کو اور اپنے ماحول کو معمور رکھا کرو اس لئے جماعت احمدیہ کا ان عظیم الہی جلووں کو دیکھنے کے بعد ضروری فرض ہے جو اُن پر عائد ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد پہلے سے زیادہ کرنے والے ہوں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُم (ابراهیم : ۸) کہ اگر تم میرا شکر اور میری حمد کرو گے تو میں اپنی نعمتوں کا تمہیں پہلے سے زیادہ وارث بناؤں گا۔پس ہم خدا کی حمد کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ ہماری حمد کی اُسے احتیاج ہے بلکہ اس لئے کہ اس کی حمد کی ہمیں احتیاج ہے تا کہ وہ پہلے سے زیادہ ہم سے پیار کرے پہلے سے زیادہ اپنے قرب کی ہمیں راہیں دکھائے۔دنیا میں پہلے سے زیادہ وہ انقلابات آئیں کہ جو ہمارے دلوں کو