خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 613
خطبات ناصر جلد ششم ۶۱۳ خطبہ جمعہ ۳ دسمبر ۱۹۷۶ء بھی آدمی چڑھے ہوئے تھے۔جب گاڑی کھڑی ہوئی تو میرے سامنے جوڈ بہ تھا اس میں کچھ بچوں والی مستورات تھیں، احمدی مستورات ، چھوٹے چھوٹے بچے انہوں نے اٹھائے ہوئے تھے اور کچھ ان کے مرد اُن کے ساتھ تھے۔میں نے پوچھا تو نہیں لیکن جو نظارہ میں نے دیکھا وہ میاں اور بیوی اور بچے کا نظارہ تھا جس وقت گاڑی کھڑی ہوئی تو ماں نے جذباتی ہوکر دروازہ کھولا اور چند مہینے کا بچہ اپنی گود سے اُٹھا کر اس نے یوں اپنے خاوند کی طرف پھینکا کہ لے پکڑ اس کو ، میں جس جگہ پہنچنا چاہتی تھی وہاں پہنچ گئی۔اب کہنے والوں نے کہا کہ ہم نے بڑی سہولت بہم پہنچائی۔سپیشل گاڑیاں چلا دیں لیکن وہ جو سارڈین (Sardine ایک قسم کی مچھلی جو ڈبوں میں بھری جاتی ہے۔ناقل ) کی طرح گاڑی میں بھرے ہوئے تھے وہ گاڑی کی سہولت کا احساس رکھتے ہوئے تو ربوہ میں نہیں پہنچے تھے بلکہ کوئی اور چیز تھی ، ایک عشق کا شعلہ تھا جو ہر تکلیف کو جلا کر راکھ کر دیتا تھا اور اپنے پیار کرنے والے رب کے پیار کے جلوے دیکھنے کے لئے انہیں کھینچتا ہوا یہاں لے آتا تھا لیکن بہر حال دل انتظام کرنے والوں کے ممنون بھی تھے اور ان کے لئے دعائیں کرنے والے بھی تھے۔بچوں کو، ان معصوم بچوں کو تکلیف شاید پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ ہو لیکن وہ جذ بہ جو انہیں کھینچ کر یہاں اپنے مرکز کی طرف لانے والا ہے اس میں بھی زیادہ شدت پیدا ہوگی اور وہ محبت اور عشق کے ایک جذبہ کے ساتھ تکلیفیں اُٹھاتے ہوئے یہاں پہنچ جائیں گے۔کوئی وقت پر پہنچ سکے گا کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔یہ تو درست ہے لیکن وہ پہنچ جائیں گے کوئی دیر کے بعد پہنچے گا، کوئی جلسہ کے پہلے دن صبح جلسہ شروع ہونے سے پہلے نہیں پہنچ سکے گا اور افتتاحی دعا میں شریک نہیں ہو سکے گا۔میں آج سے ہی دعا کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ساری دعاؤں میں ان کو شریک کرے اور خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے جہاں ہمیں اپنی برکات اور نعمتوں سے نوازے وہاں دیر میں آنے والوں کو بھی نوازے کیونکہ ان کی نیتیں یہاں دیر سے پہنچے کی نہیں تھیں بلکہ حالات سے مجبور ہوکر وہ دیر سے پہنچے۔یہاں جو مہمان آتے ہیں ان کی رہائش کے لئے۔خاندانوں کے لئے چھوٹے چھوٹے