خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 607 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 607

خطبات ناصر جلد ششم ۶۰۷ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء بغیر مالک کی اجازت کے لوگ یہ کام کر جاتے ہیں۔دوسرے کی چیز میں دخل اندازی کرنا یہ ویسے ہی بری بات ہے۔دوسرے کے گھر کی دیوار پر ایک داغ لگانا یہ ویسے ہی نامناسب ہے اور طہارت باطنی کے بھی خلاف ہے اور ظاہری طور پر بھی دیوار میں گندی ہو جاتی ہیں۔پھر بعض ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا تقدس اور احترام مطالبہ کرتا ہے کہ اس طرح دیواروں پر ان کلمات کو نہ لکھا جائے۔صرف جوش میں آکر اور اپنا شوق پورا کرنے کے لئے تو ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں یہ ویسے بھی برا لگتا ہے۔لکھنے والے بعض دفعہ خوشخط بھی نہیں ہوتے اوٹ پٹانگ لکیریں ڈالی ہوئی ہوتی ہیں۔ایک چیز مضمون کے لحاظ سے کتنی اچھی کیوں نہ ہو نظر کو بھی اچھی لگنی چاہیے۔اسی طرح سڑکیں بھی صاف ہونی چاہئیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ چونکہ ابھی مکانوں کے بعض پلاٹس ایسے ہیں جن پر تعمیر نہیں ہوئی وہاں گند پھینک دیا جاتا ہے اور کوئی اس گند کو سنبھالنے والا نہیں۔جولوگ اس قسم کے کوڑا کرکٹ کو بیچ کر پیسے کماتے ہیں یعنی ربوہ کی ٹاؤن کمیٹی ، اس کا کام ہے کہ جہاں وہ اس سے فائدہ حاصل کر رہی ہے وہاں وہ لوگوں کو تکلیف سے محفوظ کرنے کا بھی کوئی سامان پیدا کرے۔بہر حال یہ تو اُن کا کام ہے میں تو آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ربوہ کے سارے لوگ کوشش کریں جلسہ میں تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔میں نے بتایا ہے ایک ہفتہ تو میں اپنی بیماری کی وجہ سے آپ کو توجہ نہیں دلا سکا۔پچھلے جمعہ کے روز میں یہاں نہیں آسکا اس لئے اب میں یہ تو نہیں کہتا کہ ربوہ کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دُلہن کی طرح سجاد ولیکن میں یہ کہوں گا کہ جس طرح عید والے دن اور جس طرح جمعہ والے دن کہا گیا ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر اور ہو سکے تو خوشبو لگا کر مسجدوں میں آؤیا عید گاہ میں پہنچو اُس طرح ربوہ کی شکل بنا دو۔سارے ربوہ کو تو عطر لگانا مشکل ہے مگر سارے ربوہ سے بد بو کو دور کرنا نسبتاً آسان ہے، تم اتنا ہی کرو۔بہر حال سارار بوہ صفائی میں لگ جائے۔دوست و قاری عمل کریں یہاں تک کہ پوری صفائی ہو جائے۔مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے اور یہ سُن کر مجھے دُکھ ہوا ہے کہ جو ہمارے اپنے مرکزی ادارے ہیں مثلاً صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں یا تحریک جدید ہے یا وقف جدید ہے یا انصار اور خدام کے