خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 586 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 586

خطبات ناصر جلد ششم ۵۸۶ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۶ء ہے۔اس وقت میں صرف مثالیں ہی دے رہا ہوں سارے واقعات اور تعدا د نہیں بتا رہا۔یورپ میں ہمیں بڑی دقت تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کیا کہ جرمنی میں بلکہ مجھے یوں کہنا چاہیے کہ سارے ملکوں میں ہی جہاں ہمارے مشن ہیں ہالینڈ میں بھی ، سوئٹزر لینڈ میں بھی ، جرمنی میں بھی ، ڈنمارک میں بھی ، سویڈن میں بھی ، ناروے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے مخلص انسان اسلام کو دیئے کہ جو احمدیت کے ذریعے اسلام قبول کرنے کے بعد ہمارے آنریری مبلغ بن گئے۔رضا کار مبلغ ، وہ تنخواہ نہیں لیتے تھے لیکن مبلغوں کی طرح دن رات کام کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں وہ انتہائی مخلص ہیں۔انسان حیران ہو جاتا ہے ان کو اور ان کے عمل کو دیکھ کر کہ اتنی دور رہنے والے ہیں سوائے اس کے کہ فرشتوں نے ان کے اندر ایک انقلاب پیدا کیا ہو یہ تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی۔اُس گند میں سے وہ نکلے اور اس گند سے متاثر ہوئے بغیر بلکہ میں یہ کہوں گا کہ اس گند کو اپنے لئے کھاد بنا کر ایک نہایت حسین روحانی زندگی انہوں نے اپنے اندر پیدا کی اور بہت کام کیا۔لیکن یہ تعداد بھی کم ہے ہمارے پاس پیسہ بھی کم ہے اور آدمی بھی کم لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی متعدد بار کہا ہے ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ دنیا کی ساری غیر مسلم آبادیوں کو مسلمان بنانے کے لئے جتنی رقم کی ضرورت ہے وہ ہم دیں یا جتنے مبلغین کی ضرورت ہے وہ ہم پیدا کریں کیونکہ ہمارے پاس نہ اتنا مال ہے اور نہ اس تعداد میں ہم آدمی دے سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ جتنی تمہاری استعداد ہے اس کے مطابق تم زیادہ سے زیادہ پیش کرو اور جو کمی رہ جائے گی (اور کمی بہت بڑی ہے ) اس قربانی اور کامیابی کے درمیان جو گیپ (Gap) ہے وہ بہت وسیع ہے لیکن خدا کہتا ہے کہ وہ کمی میں پوری کردوں گا لیکن کروں گا اس وقت جب تم اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دو گے۔اس پس منظر میں آج میں تحریک جدید کے تینتالیسویں اور تینتیسویں اور بارھویں دفتر کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں۔یکم نبوت یعنی نومبر سے یہ نیا سال شروع ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا کچھ سالوں کا گراف دفتر نے مجھے بھجوایا ہے یہ ۶۸۔۱۹۶۷ء سے شروع ہوتا ہے گویا پچھلے آٹھ سال کا ہے اور یہ آٹھ سال کا گراف تیزی سے اوپر چڑھتا ہے