خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 555 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 555

خطبات ناصر جلد ششم ۵۵۵ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء پرستش کرنا چاہے اور اس کی عبادت کرنا چاہے اُس کے لئے خدا کی مسجد کے دروازے کھلے ہیں۔عیسائیوں کے بہت سے فرقے تثلیث کے قائل نہیں مثلاً Unitarian ہیں وہ مسیح کو خدا کا ایک رسول مانتے ہیں خدا نہیں مانتے۔وہ خدا کے واحد و یگانہ پر ایمان لاتے ہیں۔پہلے تو وہ ایک فرقہ تھا اب اُن کے کئی فرقے ہو گئے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عیسائیوں کا ایک Unitarian وفد آپ سے ملنے کے لئے آیا گفتگو کے دوران وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے ہماری عبادت کا وقت ہو گیا ہے۔اجازت دیں ہم باہر کسی باغ میں جا کر اپنی عبادت کر لیں۔آپ نے فرمایا تم باہر کیوں جاتے ہو۔مَسْجِدِئی ھذا یہ میری مسجد ہے یہ خدا کا گھر ہے اس میں تم اپنی عبادت کرو۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد جسے ہم مسجد نبوی کہتے ہیں اور جو مدینہ میں ہے اس سے زیادہ تو کوئی اور مسجد مقدس نہیں۔وہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اس مسجد کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں کیونکہ تم اپنے خدا کی پرستش کرنا چاہتے ہو۔تاہم ساتھ یہ شرط لگا دی کہ بد نیتی سے شرارت کرنے کی غرض سے کوئی وہاں داخل نہ ہو۔اس کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن امن کے ساتھ اور خشیت کے ساتھ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے کوئی آئے تو وہ وہاں عبادت کرے۔میں نے یہ اعلان پہلی بار ۱۹۶۷ء میں کوپن ہیگن (ڈنمارک) کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا اور اسی دن جمعہ کی نماز میں مجھے بتایا گیا کہ تین سو غیر مسلم نماز میں شامل ہو گئے کیونکہ ان المَسْجِدَ لِله کا اعلان بہت ہی مؤثر اعلان ہے اور چونکہ اُن کو پتہ نہیں تھا اس لئے گواُنہوں نے رکوع ہمارے ساتھ مل کر کیا سجدہ میں گئے قعدہ میں بیٹھے لیکن ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے کیونکہ ان کو پتہ نہیں تھا کہ رکوع کس طرح کرنا ہے اور سجدہ کس طرح کرنا ہے؟ چنانچہ اس وقت تک دس ہزار سے زیادہ غیر مسلم ہماری اس مسجد میں ہمارے ساتھ مل کر خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کر چکے ہیں۔مسجد کو دیکھنے کے لئے جو سیاح آتے ہیں اگر نماز کا وقت ہو تو بیچ میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی ہماری نماز میں شامل ہو جاتے ہیں، سارے نہیں ہوتے کوئی شامل ہوتا ہے کوئی نہیں ہوتا بہر حال مسجد تو سارے لوگ دیکھتے ہیں۔