خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 501
خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۱ خطبہ جمعہ ۱۶؍جولائی ۱۹۷۶ء زیر بحث نہیں ہے لیکن بہر حال وہ طاقت انسان کے علم میں آگئی جو ان باریک سے ذروں کے اندر چھپی ہوئی تھی۔پچھلے سو سال میں بے شمار میدانوں میں ، بے شمار پہلوؤں سے انسانی علم نے ترقی کی ہے اور آئندہ صدی میں وہ اس سے بھی زیادہ ترقی کرے گا۔علم کا دروازہ نوع انسانی کی کسی نسل پر بھی بند نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی صفات کے مطابق اس عالمین میں کام کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں اور ان صفات کے جلوے غیر محدود ہیں اور ہر چیز میں یہ خاصیت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات سے اثر پذیر ہو اور ان کا اثر قبول کرے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کا نام ہی آثار الصفات ہے اور آثار الصفات کا نام سنت اللہ ہے اور اسی کو ہم قانون الہیہ یا قانون قدرت کہتے ہیں۔قانون قدرت پر احاطہ کرنا انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ انسان خواہ کس حد تک ترقی کرتا چلا جائے اس کا علم محدود ہو گا اس کا مشاہدہ محدود ہو گا اور اس کا فہم محدود ہو گا لیکن خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور حکمتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ان کی حد بست نہیں کی جاسکتی اگر یہ حقیقت ہے اس مخلوق کی کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے اثر کو ہمیشہ قبول کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی اور اگر یہ حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اثر انداز ہوتی ہیں اور مؤثر بنتی ہیں اور اگر یہ حقیقت ہے (اور یہ حقیقت ہے ) کہ خدا تعالیٰ کی ازلی ابدی صفات لا محدود اور لا متناہی ہیں اور آثار الصفات بھی لا محدود اور غیر متناہی ہیں تو قانون قدرت کی حد بست کرنا اور اس کو اپنے احاطہ علم میں لے آنا انسان کے لئے ممکن نہیں ہے اور چونکہ یہ ممکن نہیں ہے اس واسطے کسی کام کے متعلق کسی واقعہ کے متعلق کسی پیشگوئی کے متعلق یا کسی معجزہ کے متعلق انسان کا یہ کہ دینا کہ ایسا نہیں ہو سکتا یا ایسا نہیں ہوا ہوگا کیونکہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے یہ غلط ہے۔اس لئے کہ قانون قدرت کا تو انسان احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کی صفات کے آثار یعنی مخلوق میں جو ان کا اثر پیدا ہوتا ہے وہ غیر متناہی ہے چونکہ قدرت الہیہ کا جسے ہم قانون قدرت کہتے ہیں اس لئے احاطہ نہیں ہوسکتا کہ وہ غیر متناہی ہے تو قانونِ قدرت کا جو تھوڑا سا علم انسان کو ملا ہے اس میں دنیا کے پچھلے اور اگلے واقعات کو باندھنے کا دعویٰ کر دینا جنون