خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 444

خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۴ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۷۶ء ایک چیز بھینسوں اور گھوڑوں اور بیلوں اور گائے اور بکری اور بھیڑ کا پیٹ بھرتی ہے اور ایک چیز انسان کا پیٹ بھر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات انسان کو دے دی اور بنیادی بات یہ بتائی کہ جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ مَتَاعُ الحیوۃ الدنیا ہے یعنی تمہیں ورلی زندگی کا سامان دیا گیا ہے اس سے زائد اور کچھ نہیں۔آیت کی ابتدا میں یہ مضمون بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے لیکن اس ور لی زندگی کے سامان میں اُس وقت ایک عظیم روحانی اور اخلاقی انقلاب اور ایک حسین تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے جب اس مَتَاعُ الْحَیوۃ الدنیا کے ساتھ آسمانی برکات شامل ہو جا ئیں اور جب ور لی زندگی کے سامان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہدایت شامل ہو جائے۔جب ور لی زندگی کے سامان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تو کل علی اللہ شامل ہو جائے پھر یہ حیض ورلی زندگی کا سامان نہیں رہتا۔پس وہی چیز جو محض ورلی زندگی کا سامان تھا اور اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ایک تدبیر کی اور اس میں آسمانی برکات کو ملا دیا اور اس کے نتیجہ میں اس لغو سی چیز یعنی ورلی زندگی کے سامان کی شکل بدل دی، اس میں آسمانی ہدایت کو شامل کر دیا اور ور لی زندگی کے سامان کی شکل بدل دی اور توکل علی اللہ کو بیچ میں ملا دیا، انسان کو یہ توفیق دی کہ وہ توکل کر سکے اور وہ جو محض ورلی زندگی کا سامان تھا اسے گویا زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دینے کا سامان بنا دیا۔ور لی زندگی کا سامان مادی بھی ہے یعنی جو کچھ بھی ہمیں دیا گیا ہے اور جسے محض ورلی زندگی کا سامان کہا گیا ہے اس میں مادی اشیاء بھی شامل ہیں۔مثلاً اس مَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ میں جو کچھ بھی دیا گیا ہے کھانا ہے، پینا ہے، کپڑا اور لباس ہے کنوینس (Conveyance) کے سامان ہیں گھوڑے گاڑیاں ، موٹریں، ہوائی جہاز وغیرہ اور اب راکٹ بن گیا ہے۔اس میں بھی انسان سفر کرنے لگ گیا ہے اور آگے اور ترقی کرے گا۔پھر جسم کی طاقتوں کی نشوونما کا سامان ہے۔خدا تعالیٰ نے متوازن غذا پیدا کی اور اس کے ہضم کے سامان پیدا کئے لیکن اگر آسمانی برکت شامل نہ ہو اور آسمانی ہدایت شامل نہ ہو تو صحت انسانی بھی انسان کو گمراہی کی راہوں پر چلا دیتی