خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 443
خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۳ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۷۶ء کائنات کی ہر چیز جو انسان کو دی گئی ہے وہ اس ور لی زندگی کا سامان ہے خطبہ جمعہ فرمودہ ۷ رمئی ۱۹۷۶ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی:۔فَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَ ابْقَى لِلَّذِيْنَ امَنُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔(الشورى:۳۷) اس کے بعد فرمایا:۔پچھلا قریباً سارا ہفتہ ہی سر درد، بیماری اور تکلیف میں گذرا ہے لیکن چونکہ جمعہ بھی ہمارے لئے ایک ہفتہ وار عید ہے اور عید پر ہم ملتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتے ہیں اس لئے میں اپنی کمزوری کے باوجود جمعہ پر آ گیا ہوں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے اور کام کی توفیق عطا کرے اور سعی قبول فرمائے۔جو آیت میں نے اس وقت تلاوت کی ہے اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے اور ہمیں دوسری آیات سے پتہ لگتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز ہی انسان کو دے دی گئی ہے وہ ہے مَتَاعُ الْحَیوۃ الدنیا یعنی ورلی زندگی کا سامان ہے اور اپنی ذات میں فِي نَفْسِهَا وہ اس سے زائد کچھ نہیں۔ورلی زندگی کا سامان مثلاً چارہ اور غذا ہے کھانے کی