خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 352 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 352

خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۲ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء کا کوئی بندہ انسانوں کی اصلاح کے لئے قحط کی بددعا کرے تو خدا تعالیٰ ایسے اصولی ، بنیادی اور طبعی سامان پیدا کر دیتا ہے اور اس کی صفات کے جلوے کچھ اس طرح ظاہر ہوتے ہیں کہ وہ ایک لمبے عرصے تک بارش نہیں ہونے دیتے اور قحط کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ یہ اسباب اور مسببات کی دنیا ہے۔ایک علت ہے اور ایک اس کا معلول ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات عِلتُ الْعِلَل ہے۔یہ دنیا اور اس کی کائنات کا ہر جز و اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کا مظہر ہے مثلاً خدا تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ دنیا میں بعض چیزوں کو بڑھاتا چلا جاتا ہے میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے ستاروں کی جو روشنی زمین پر پہنچ رہی ہے جب سے زمین بنی ہے اس میں ستاروں کی روشنی کا اضافہ ہو رہا ہے۔بعض ستارے اتنے فاصلے پر ہیں کہ ان کی روشنی پہلے نہیں پہنچی بعض کی روشنی ۱۹۷۵ء میں پہنچی ہوگی۔پس جہاں تک ستاروں کی مجموعی روشنی کا تعلق ہے جو زمین کے اوپر پڑ رہی ہے اس کے اندر ایک وسعت پیدا ہو گئی۔گویا خدا تعالیٰ کی ایک یہ صفت ہے کہ وہ وسعت پیدا کرتا ہے چنانچہ وہ انسان کو ترقی دیتے دیتے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک لے آیا اور یہ بھی گویا ایک وسعت ہے روحانی طور پر کہ لوگ شریعت قرآنیہ کو سمجھنے کے قابل ہو گئے۔ان کے دل و دماغ شریعت قرآنیہ کو قائم کرنے کے قابل ہو گئے انہوں نے دنیا کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کی اور خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا جس کا سلسلہ چلتا چلا جا رہا ہے اور اب پھر اس پیشگوئی کے مطابق جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی کہ آخری زمانہ میں اسلام پھر اسی طرح ساری دنیا پر غالب آئے گا جس طرح وہ اپنے شروع زمانہ میں معروف دنیا پر غالب آیا تھا کیونکہ اس وقت ساری دنیا آباد نہیں ہوئی تھی اس وقت امریکہ کا وہ حال نہیں تھا جو اس وقت ہے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے۔پس دعا کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جب دعا کی جاتی ہے تو وہ اپنے فضل سے ایسے بنیادی اسباب پیدا کر دیتا ہے جو اس چیز کے حصول کا سبب بن جاتے ہیں جس کے لئے دعا کی