خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 338

خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۸ خطبہ جمعہ ۱۳ رفروری ۱۹۷۶ء ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا ہے انسان سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہ کرے نیز دوسری جگہ فرمایا کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: ۵۷) یعنی جن وانس کو وہ روحانی قوتیں اور استعدادیں عطا کی گئی ہیں کہ وہ اپنے رب کی پرستش کر کے اس کے انتہائی مخرب کو حاصل کر سکتے ہیں ، یہ ہے قضا و قدر۔یہ خدا کی تقدیر اور اس کا اندازہ ہے یعنی انسان کی فطرت میں اور اس کی خُو میں اس نے اپنے اندازے کے مطابق یہ رکھا اور یہ چیز پیدا کی کہ وہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر کے اس کا عبد بن سکتا ہے، اسکا فرمانبردار بندہ بن سکتا ہے اور اس کا مطیع بن سکتا ہے اس کی فطرت میں یہ اندازہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے شیطان کو یہ کہہ دیا ہے کہ جن پر تیرا بس چلے انہیں فریب دے لیکن جو میرے بندے ہیں ان کے اوپر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا۔تو یہ قضا ہے، یہ تقدیر ہے کہ انسان خدا کا بندہ بنے لیکن اس تقدیر نے شیطان کو بھی یہ مہلت دے دی کہ وہ بعض لوگوں کو بہکانے کے قابل ہو جائے۔پس تقدیر کے معنی ہیں ایک تو یہ کہ عِلتُ العِلل یعنی تمام سامانوں اور تمام اسباب کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور دوسرے یہ کہ اس نے اپنے قوانین میں اور اندازے میں جن کو ہم قوانین قدرت کہتے ہیں ہر چیز کو لپیٹا ہوا ہے اور محیط کیا ہوا ہے۔ہر چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اس نے ایک اندازے کے مطابق اس میں اپنی صفات کے جلوے رکھے ہیں یعنی اس کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس حد تک جاسکتی ہے اس سے آگے نہیں جاسکتی۔تو جس تقدیر کو اسلام ہمارے سامنے پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ایک اور خالق کل ہے لیکن اس یو نیورس میں ، اس عالمین میں اور اس کائنات میں ، ہماری زندگی میں یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں بھوک لگے اور آسمان سے خدا کی آواز آئے اور پیٹ بھر جائے۔نہیں بلکہ اس نے سامان پیدا کئے ہیں اور اس دنیا میں تدریج کا قانون رائج کیا ہے۔ہر چیز تدریج کے ساتھ ہوتی ہے اور پھر ہر چیز کے ساتھ اندازے ہیں فَقَدَّدَة تقديرا۔تدریج ایک بنیادی اصول ہے لیکن اس میں بھی اندازے ہیں مثلاً ایک بیکٹیریا ہے اس کی زندگی کا تسلسل چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتا ہے اس میں جوانی آتی ہے پھر وہ آگے بے تحاشا اپنی نسل چھوڑتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے اور ایک گھوڑے کی