خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 321
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۱ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۶ء سے حواس باختہ ہو۔وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو تو اس وقت نماز پڑھنے سے منع کر دیا کہ اس حالت میں کوئی شخص نماز نہ پڑھے کیونکہ وقت اور موقع اور محل کے لحاظ سے نیک عمل ہی کو عملِ صالح کہتے ہیں گویا ہر نیک کام کے لئے وقت اور جگہ کا مناسب حال ہونا بھی ضروری ہے تب وہ عمل عملِ صالح بنتا ہے۔پس جو درخت جانور لگا جاتے ہیں اور ایسے جانوروں میں مثلاً طوطا ہے وہ کوئی چیز لے آتا ہے اور اس کی گٹھلی گر جاتی ہے یا ہوائیں درختوں کے پیچ اڑا کر لے آتی ہیں اور اس سے درخت اگ آتے ہیں تو یہ تو انسان کا عمل ہی نہیں ہے اور جہاں وہ درخت آگ آیا وہ اس کا محل ہی نہیں۔اس لئے ایک تو ہمارے احمدی زمینداروں یا زمین کے مالکوں کو چاہیے کہ جو بے موقع درخت اُگ آئیں ان کو کاٹ دیں لیکن اس کے ساتھ اُن کو یہ بھی کرنا چاہیے کہ اگر بے موقع اُگنے والے دس درخت کاٹیں تو اس کے مقابلہ میں وہ خود اپنے ہاتھوں سے موقع اور محل کے مطابق سو درخت لگا دیں۔اس سے صرف اس زمیندار ہی کو مالی فائدہ نہیں پہنچتا جو درخت لگا تا ہے بلکہ ساری قوم کو فائدہ ہوتا ہے۔دنیا میں ایسی قومیں بھی ہیں جن کی ساری ملکی دولت کے ایک بہت بڑے حصہ یا بڑی فیصد کا انحصار جنگلات پر ہوتا ہے مثلاً سویڈن ہے وہ جنگلوں سے بھرا ہوا ہے۔انگلستان اپنا فرنیچر سویڈن سے منگواتا ہے سویڈن والے فرنیچر بنا کرا یکسپورٹ کرتے ہیں۔پس انسان کو ہمیشہ درخت کی ضرورت رہی ہے اور رہے گی۔ابھی چند ہفتے ہوئے کسی بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے یہ اعلان ہوا تھا کہ ساری دنیا میں درختوں کی کمی ہو رہی ہے اور اگر انسان نے اس طرف توجہ نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ساری دنیا میں درختوں کی کمی ہو جائے اور انسان کو تکلیف اٹھانی پڑے لیکن ہم احمدیوں کو اس طرح درخت نہیں لگانے چاہئیں جس طرح پچھلے ۲۷ سال سے پاکستان میں درخت لگ رہے ہیں۔ہر سال با قاعدہ سکیم کے ما تحت گورنر اور صدر، چیف منسٹر اور پرائم منسٹر صاحبان جو گزرے ہیں انہوں نے درخت لگائے اور ان کی تصویریں اخباروں میں چھپیں۔آج بھی اخبار میں تھا کہ ہمارے گورنر صاحب فلاں جگہ اور چیف منسٹر صاحب فلاں جگہ درخت لگائیں گے۔پس درخت تو لگتے چلے آرہے ہیں اور شاید