خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 320
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۰ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۶ء اس رنگ میں کہ وہاں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں اگر ہم محنت کر کے اور حکومت کی انتظامیہ کے تعاون کے ساتھ ربوہ کی پہاڑیوں کو درختوں کے ساتھ ڈھانک دیں تو یہاں گرمیوں کے موسم میں بڑا فرق پڑ جائے اور نسبتا ٹھنڈ ہو جائے۔زمیندار جو درخت لگاتے ہیں ان کو مالی لحاظ سے بہت فائدہ پہنچتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جو درخت کھیت میں خود ہی غلط جگہ اُگ آتے ہیں زمیندار ان کو کاٹتا نہیں اور جس جگہ درخت لگانا چاہیے وہاں درخت لگانے کی طرف توجہ نہیں کرتا۔میں باہر جاتا رہتا ہوں میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک کھیت میں ۵-۱۰ جگہ کیکر یا ٹالی وغیرہ کے درخت اُگے ہوئے ہیں جانور اُن کی گٹھلی یا بیج پھینک دیتے ہیں اور وہ کھیت کے عین بیچ میں اُگے ہوتے ہیں اور ایک عجیب تماشا سا بنا ہوتا ہے ان کا ہل چلانے پر اثر پڑتا ہے، گندم اور دوسری فصل پر اثر پڑتا ہے زمیندار وہاں سے اُن کو اُکھاڑتا نہیں۔اُس کے لئے مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے درخت کیوں لگائے؟ وہ کہتا ہے جب جانوروں نے تھوڑی سی غلط جگہ میرا کام کر دیا ہے تو ٹھیک ہے جانوروں کا شکریہ، میں ان کو نہیں اکھاڑوں گا اور یہ عمل صالح نہیں ہے عمل صالح موقع اور محل کے مطابق کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمالِ صالحہ کی جزا ہے صرف اچھے اعمال کی نہیں۔بہت سے عمل جو ویسے اپنے نفس میں اچھے ہوتے ہیں اگر وہ بے موقع اور بے محل اور بے وقت کئے جائیں تو وہ اچھے نہیں رہتے مثلاً نماز ہے قرآن کریم میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں صلوۃ یعنی نماز با جماعت پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ہمارے سامنے نماز کے فرائض رکھے پھر جن کو ہم سنتیں کہتے ہیں وہ رکھیں۔پھر نوافل ہیں جن لوگوں کو خدا توفیق دے یا جب ضرورت پڑے وہ مختلف اوقات میں نفل نماز پڑھتے ہیں۔نماز فی نفسم بڑی اچھی چیز ہے انسان کو نیکیوں کی طرف لے جانے اور بدیوں سے روکنے والی ہے لیکن بعض مقامات کے متعلق کہہ دیا کہ تم یہاں نماز نہیں پڑھو گے مثلاً حکم دیا کہ تم مقبروں میں نماز نہیں پڑھو گے۔بعض اوقات کے متعلق حکم دیا کہ ان اوقات میں نماز نہیں پڑھو گے مثلاً جس وقت سورج طلوع ہورہا ہو یا غروب ہو رہا ہو اس وقت نماز پڑھنے سے منع کر دیا یا مثلاً جس وقت انسان کسی بیماری کی تکلیف کی وجہ