خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 10
خطبات ناصر جلد ششم 1۔خطبه جمعه ۱۰ جنوری ۱۹۷۵ء منازل طے کرتے ہوئے اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں۔درجہ بدرجہ آگے بڑھنے کا ایک ایسا اصول ہے جو بنیادی ہے۔خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق کے ساتھ بھی اور انسان کے ساتھ بھی۔ہماری زندگیوں کا اور جماعت احمدیہ کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے۔اس منصوبے نے بھی درجہ بدرجہ ترقی کرنی تھی اور اس وقت تک یہ منصو بہ درجہ بدرجہ ترقی کرتا چلا آ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس وقت جب آپ اکیلے تھے اس آواز کو بلند کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ میرے ذریعے سے امت محمدیہ میں ایک ایسی جماعت قائم کی جائے کہ جو اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر کے اسلام کو سب ادیان باطلہ پر غالب کرنے والی اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے والی ہو اور بنی نوع انسان کے دل اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جیتنے والی ہو۔جس وقت یہ آواز اٹھائی گئی اس وقت آپ اکیلے تھے مگر پھر سینکڑوں بنے۔پھر ہزاروں بنے۔پھر لاکھوں بن گئے۔پہلے محدود تھے مکانی لحاظ سے ہندوستان کے بعض ( تین یا چار ) محدود، مختصر اور چھوٹے چھوٹے علاقوں میں پھر ان علاقوں میں وسعت پیدا ہونی شروع ہوئی۔پھر یہ جماعت پنجاب میں پھیلی۔پھر ہندوستان میں پھیلی۔پھر کہیں کہیں باہر کے ممالک میں جماعت احمدیہ میں لوگ داخل ہونا شروع ہوئے۔پھر ملکوں ملکوں میں پھیل کر اپنی اجتماعی زندگی کے ایک خاص موڑ پر آج یہ جماعت پہنچ چکی ہے اور جیسا کہ میں احباب کو بتا چکا ہوں کہ یہ صدی ہماری تیاری کی صدی تھی اور انشاء اللہ ہماری زندگی کی دوسری صدی دنیا میں اسلام کے غالب ہو جانے کی صدی ہوگی اور اس کے لئے جو پندرہ سال ہماری زندگی کے پہلی صدی کے باقی رہ گئے ہیں۔اس میں ہم نے تیاری کرنی ہے غلبہ اسلام کی صدی کے استقبال کی۔یہ پندرہ سال جو ہیں اس کے لئے ہم نے ایک منصوبہ بنایا جو صد سالہ جو بلی فنڈ“ کے نام