خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 270
خطبات ناصر جلد ششم ۲۷۰ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء استقبال کرتا رہا ہوں مجھے معلوم ہے کہ مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کا بھی خیال نہیں رکھتیں۔جس وقت ربوہ میں گاڑی کھڑی ہوتی ہے اتنا پیار ان کو اپنے مرکز ربوہ سے ہے ربوہ کی اینٹوں سے نہیں ، نہ یہاں کے گارے اور سیمنٹ سے یا چھتوں سے یا یہاں کے مکانات سے ہے بلکہ ربوہ سے ان کو اس لئے پیار ہے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور آپ کے جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے جو تحریک اٹھی تھی اس کا یہ مرکز بن گیا ہے۔یہ اس تحریک کا مرکز ہے اس لئے ان کے دلوں میں وہ پیار اور وہ محبت ہے۔یہاں آکر وہ ساری تکالیف کو بھول جاتے ہیں اور دعا کریں خدا کرے کہ ان ایام میں ان کو کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے اور بعد میں آنے والے ایام میں بلکہ وہ ہمیشہ ہی اللہ کی پناہ میں رہیں۔جواہل ربوہ ہیں ان پر کبھی ہم غصے بھی ہوتے ہیں کبھی ان کی کمزوریوں کی طرف بھی انہیں تو جہ دلاتے ہیں کیونکہ مومن کا ہر قدم ہر آن پہلے سے آگے بڑھنا چاہیے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جماعت میں بھی یہ ایک ایسا گروہ ہے کہ یہاں کی اکثریت انتہائی قربانیاں کرنے والی ہے اور دُنیا کے نقشے میں اس قسم کی کوئی کمیونٹی (Community ) اور کوئی قصبہ انسان کو نظر نہیں آئے گا۔یہ چھوٹا سا قصبہ جس کی آبادی اب شاید بمشکل ۶۷ - ۶۸ ہزار ہو گی یہ قریباً ایک لاکھ مہمانوں کو سمالیتا ہے اور پتہ بھی نہیں لگتا۔وہ کیا چیز ہے جو ان کو سنبھالتی ہے؟ ان کو ایک اہلِ ربوہ کا پیار سنبھالتا ہے، ان کو اہل ربوہ کا خدمت کا جذبہ سنبھالتا ہے، ان کو اہل ربوہ کی دعائیں سنبھالتی ہیں۔اہل ربوہ پر بھی اللہ تعالیٰ بڑا ہی فضل کرے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق دے اور انہیں اجر عظیم عطا کرے اور ان کی نسلوں کو بھی اس ذمہ داری کے سمجھنے اور اس کے ادا کرنے کی توفیق عطا کرے۔دعائیں کریں کہ آنے والے بھی اور یہاں آ کے رہنے والے بھی سارے کے سارے قرآن کریم کے علوم کو سیکھنے والے سمجھ کر سکھنے والے ہوں ان پر عمل کرنے والے ہوں اور علوم کے ان خزانوں کو دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ عظمت قرآن کو دنیا میں قائم کرنے والے اور نور قرآن کو دنیا میں روشن تر کرنے والے