خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 258 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 258

خطبات ناصر جلد ششم ۲۵۸ خطبه جمعه ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء خبریں دیتے ہیں۔ایک اس معنی میں آتا ہے کہ ملائکہ آکر تسلی دیتے ہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دنیا میں ایک شور بپا ہے کہ یہ شخص کا فر ہے اور خدا کے فرشتے میرے کان میں آکر یہ کہتے ہیں کہ تم گھبراؤ نہیں خدا تمہارے ساتھ ہے۔پس تسلی دینے کے لئے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور یہ بھی انوار کے اندر شامل ہے اور اس کی بڑی لمبی تفصیل ہے۔میں اس کی چند مثالیں دوں گا تا کہ بچے بھی سمجھ جائیں کہ اس سے ہماری کیا مراد ہے۔پہلے نوشتوں میں تھا کہ مہدی کے زمانہ میں بچے بھی نبوت کریں گے مگر یہ نبوت اصطلاحی معنوں میں نہیں بلکہ اس لغوی معنی میں ہے کہ ان کو بھی سچی خوا ہیں آئیں گی چنانچہ جب ۱۹۷۴ء میں جماعت پر پریشانی اور ابتلاء کے دن تھے تو دوست مجھ سے ملنے کے لئے آتے تھے۔میں اُن کو اسلام اور احمدیت کی تعلیم بتا تا تھا، اُن کو صبر کی تلقین کرتا تھا۔انہیں وعظ کرتا تھا کہ مسکراتے رہو کیونکہ تمہاری مسکراہٹوں کا منبع خدا تعالیٰ کا پیار ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کا پیار تمہیں حاصل ہے تمہاری مسکراہٹیں تم سے چھینی نہیں جاسکتیں۔میں انہیں کہا کرتا تھا صبر کرو اور غصہ میں نہ آؤ۔ہم نے ساری دنیا کے دل پیار سے جیتنے ہیں کسی کے خلاف کوئی ایذاء رسانی کی بات نہیں کرنی نہ زبان سے اور نہ ہاتھ سے ایذاء پہنچانا ہے۔خیالات بھی ایسے نہیں ہونے چاہئیں انسان کے خیالات پاک ہونے چاہئیں۔اُس وقت ملاقات کے لئے آنے والوں میں بچے بھی ہوتے تھے چنانچہ کئی بار میں نے بچوں سے پوچھا بتاؤ تم کو کبھی سچی خواب آئی ؟ تو بچے کھڑے ہو جاتے کہ ہاں۔اُن کی سمجھ اور عقل کے مطابق آئندہ کی بات بتا دی جاتی ہے جو انسان کا کام ہی نہیں مثلاً کسی دیہاتی بچے کو خواب میں یہ بتایا جائے کہ تیری بھینس جو بچہ دینے والی ہے وہ کئی ہو گی کٹا نہیں ہو گا۔اب کون انسان یہ بتا سکتا ہے اور جب اس کی خواب پوری ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خواب میں اُسے جو علم دیا گیا ہے اس کا منبع اور سر چشمہ علام الغیوب کی ذات ہے۔پس جب گھر کے بچوں کو ، عورتوں کو اور مردوں کو اُن کی عقل اور سمجھ کے مطابق ان کو تسلی دینے کے لئے سچی خوا میں آرہی ہوں تو اُن کو دنیا کا شور و شر کیا پریشان کر سکتا ہے، بالکل پریشان نہیں کر سکتا۔پس ہم اسلام پر اس معنی میں ایمان لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار انوار اور برکات اور معجزانہ قدرتوں کے جلوے اسلام کے اندر بھرے