خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 224 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 224

خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۴ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء تو میں نے کہا کہ اس کی ضرورت تو بظاہر نہیں تھی۔ٹھیک ہے زبان سے بات نکال دی گئی ہے اس میں خدا تعالیٰ کی کوئی حکمت ہو گی۔تو پریس کے اوپر خرچ آئے گا۔پاکستانی روپیہ کے لحاظ سے تو پریس کے اوپر کافی خرچ ہو جاتا ہے اگر ایک درمیانے درجے کا پریس انگلستان میں لگے تو اس کے اوپر وہاں کا لاکھ سوالاکھ روپیہ جس کو وہ پاؤنڈ کہتے ہیں وہ خرچ ہو جاتا ہے( میں جب دورے پر وہاں جاتا ہوں تو پاؤنڈ کو میں روپیہ ہی کہا کرتا ہوں ) بڑا مہنگا ملک ہے اس کی قوت خرید بھی بہت کم ہے یعنی آپ یوں سمجھ لیں کہ وہاں پر بعض جگہ ایک عام ریسٹورنٹ میں چائے کی ایک پیالی چھ روپے کی ملتی ہے۔بڑا ہی مہنگا ملک ہے۔پس اگر وہاں پر ایک لاکھ یا سوالا کھ وہاں کے روپے کا پریس لگ جائے تو ان کے لحاظ سے یہ زیادہ مہنگا نہیں لیکن جو ہمارا پاکستانی روپے کا تصور ہے اس کے لحاظ سے یہ بائیس تنیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے تک بن جاتا ہے۔انگلستان کی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی بڑھ بھی گئی ہے ( میرے ان دوروں کے درمیان بھی بہت بڑھی ہے ) اور فعال اور مخلص بھی بڑی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول کرے اور انہیں احسن جزا دے ابھی تو دو مساجد کی ذمہ داری میں ان کے اوپر ڈال آیا ہوں یعنی پہلی مسجد کا ۷۰ - ۷۵ فیصد اور دوسری اوسلو کی مسجد کا قریباً سارا خرچ۔یہ انشاء اللہ ہو جائے گا۔اس کے بعد پھر وہ پریس کے لئے بھی تیار ہیں ان کی کچھ اپنے مشن کی ضرورتیں تھیں ان کے لئے کچھ مزید تعمیر کرنے کے لئے میں نے ان کو ۱۲۔۱۴ ہزار پاؤنڈ کی اجازت دی تھی کیونکہ جس مشن ہاؤس کا ہال بنتے وقت بہت بڑا سمجھا گیا تھا اور یہ بحث ہوگئی تھی کہ اتنا بڑا ہال کیوں بنایا جائے اس سے چھوٹا ہونا چاہیے اب اس میں گنجائش ہی نہیں رہی ، جماعت اس میں سماتی بھی نہیں۔اسی طرح جو دفتر ہیں ان میں بھی کام نہیں سماتا تو بارہ ہزار پاؤنڈ کا مطلب ہے پچیس روپے فی پاؤنڈ کے حساب سے تین لاکھ روپیہ۔چنانچہ کچھ چھوٹی چھوٹی Annexies (اینکسیز ) یعنی چھوٹے چھوٹے کمرے مزید بن جائیں گے اور ان کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔پھر اس میں بھی انشاء اللہ وسعت ہوگی وہاں ہمارے پاس زمین بڑی ہے۔اصل منصوبہ پیسے اکٹھے کرنے کا تو نہیں ہے نا۔اصل منصو بہ تو یہ کہنا چاہیے کہ پیسے خرچ