خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 223

خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۳ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء لے لے اور اس سکول کی یہ حالت تھی کہ لڑ کے داخل ہونے کے لئے نہیں آتے تھے۔چند میل پر ایک کیتھولک سکول تھا انہوں نے سکول کی بہت بڑی اور شاندار عمارت بنائی ہوئی تھی اور غیر ملکی سٹاف رکھا ہوا ہے۔وہاں کثرت سے بچے جاتے تھے اور اس بیچارے کے سکول میں کوئی آتا نہیں تھا۔چنانچہ اس حالت میں کہ علاقے کو اس کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی وہ صرف اس جذبے کے ماتحت جو بڑا پیارا جذبہ ہے کہ اسے کوئی مسلمان لے لے جماعتِ احمدیہ کے پاس آئے کہ جماعتِ احمد یہ اس ملک کے مسلمانوں کی نمائندہ ہے یہ لے لے ورنہ عیسائیوں کو اور تقویت پہنچے گی۔انہوں نے یہاں حالات لکھے میں نے کہا اچھا لے لو اللہ فضل کرے۔چنانچہ وہ لے لیا۔یہ اسی سال کا واقعہ ہے صرف چند مہینے ہوئے ہیں جس سکول میں پچاس سے زیادہ کبھی بچے داخل نہیں ہوتے تھے دو ہفتے ہوئے ہیں مجھے رپورٹ آئی ہے کہ جماعت کے پاس آنے کے بعد اس سکول میں ۱۵۰ بچے پہلی کلاس میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ ماں باپ نے اپنے بچوں کو اس بہت بڑے کیتھولک سکول سے ہٹا کر ان کے نام وہاں سے کٹوا کر اس سکول میں انہیں داخل کیا ہے۔تو وہاں اس قسم کے حالات پیدا ہور ہے ہیں میں بتا یہ رہا ہوں کہ ان واقعات کو دیکھ کر موجودہ حالات میں وہاں بھی کسی ملک میں ایک پریس لگایا جاسکتا ہے۔کل کا تو مجھے پتہ نہیں میرا رب جانتا ہے اسی واسطے میں بار بار کہتا ہوں کہ دعاؤں کے بغیر ہمارا کام نہیں چل سکتا۔وہ ہستی جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ ماضی کی ، نہ حال کی ، نہ مستقبل کی۔جب تک اس کی راہنمائی نہ ہو کیسے ہم ترقی کر سکتے ہیں، کیسے ہم اس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں، کیسے ہماری کوشش اور کام اور تدبیر میں برکت پڑسکتی ہے۔پس وہ بڑی اچھی جگہ ہے ممکن ہے کہ ایک پریس وہاں کھولیں۔یہاں کا پریس بھی بعض روکوں کی وجہ سے دوسال لیٹ ہو گیا ہے اب کچھ آثار ہیں کہ شاید پانچ چھ مہینے میں تھوڑا بہت کام کرنا شروع کر دے۔جس وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ دو پریس باہر بنیں گے اس وقت مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ یہاں کے حالات کیا ہو جائیں گے اور ہمارے راستے میں کیا روکیں پیدا ہوں گی لیکن میرے اور تمہارے رب کو پتہ تھا اور اس نے میری زبان سے ایسی بات نکلوا دی کہ خود میں نے بعد میں سوچا