خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 222
خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۲ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء ہمارے اندازے تھے کہ وہ سات سال میں مکمل ہوگا خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈیڑھ دو سال میں وہ مکمل ہو گیا اور اس کا بڑا اثر ہوا۔ایک امریکن مجھے نانا میں ملے وہ وہاں کے قبائلی Customs (کسٹمز ) ان کی روایات اور رہن سہن کے طریقوں پر P۔H۔D ( پی ایچ ڈی) کے لئے اپنا مقالہ لکھ رہے تھے۔وہ ڈیڑھ سال کے بعد یہاں آئے۔سیر کرتے ہوئے پھر رہے تھے یہاں بھی آگئے۔وہ کہنے لگے کہ میں صرف یہ دیکھنے کے لئے آیا ہوں کہ یہ جماعت کس چیز سے بنی ہوئی ہے۔مجھ سے تو بات نہیں کی لیکن بعض دوستوں سے انہوں نے یہ کہا کہ اگر امریکہ یہ وعدہ کرتا تو ڈیڑھ دوسال میں وہ اپنا یہ وعدہ پورا نہ کر سکتا لیکن جماعت احمدیہ نے اسے پورا کر دیا۔بات یہ ہے کہ ہم اس مٹی سے بنے ہوئے ہیں جو دنیا کی نگاہ میں حقیر ہے لیکن خدا کے ہاتھ میں اس کا آلہ کار بن چکی ہے۔خدافضل کرتا ہے اور کامیابیاں عطا کرتا ہے ورنہ ہم کیا اور ہماری بساط کیا اور ہمارے مال کیا اور ہماری عقلیں اور فراست کیا۔نتیجے اور تدبیر اور کوشش کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔بڑا عظیم نتیجہ نکل رہا ہے۔جماعت کے منتظمین چونکہ موقع کے اوپر ہیں وہ پیچھے پڑ جاتے ہیں تو مبلغ ہاں کر جاتے ہیں، نیم رضامند ہو جاتے ہیں کہ ہاں ہم کھول دیں گے۔بعد میں مجھ سے منظوری لیتے ہیں پھر مجھے منظوری دینی پڑتی ہے۔ایک سکول کا تو یہ ہوا کہ ایک مسلمان نے اپنے علاقے میں ایک سکول کھولا جس کو وہ چلا نہیں سکا۔وہ مسلمانوں کا علاقہ ہے وہاں احمدی بھی ہیں لیکن اکثریت ان مسلمانوں کی ہے جو احمدی مسلمان نہیں۔تو وہ حکومت اس کے پیچھے پڑگئی کہ تم سکول نہیں چلا سکتے تو ہم تم سے واپس لے لیں گے۔اس نے کہا کہ میری تو عززت خاک میں مل جائے گی وہ بہت بڑا آدمی تھا انہوں نے اسے کہا کہ پھر تم یہ کرو کہ سکول کسی مشن کو دے دو کہ وہ سنبھال لے۔عیسائی اس کے پاس گئے کہ یہ سکول ہمیں دے دو۔خدا نے ان کو بڑی دولت دی ہے لیکن ایسی مثالوں سے دنیا کی دولت اور خدا تعالیٰ کی تدبیر اور منشاء کا مقابلہ نمایاں ہو کر کھلے طور پر سامنے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں تو نہیں دیتے وہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ اگر عیسائیوں کو دے دیا تو پہلے ہی ان کے بہت سکول ہیں ہمارے علاقے میں۔وہ ہمارے بچوں کو خراب کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اسے جماعت احمد یہ