خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد ششم ۲۱۲ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء ہمارے دل میں کسی کی دشمنی ہے نہ ہمارے دل میں کسی کے لئے حقارت ہے نہ کسی کو ہم ذلیل سمجھتے ہیں۔ہم ہر انسان کو انسانیت کے شرف کا مقام دینا چاہتے ہیں اور اس مقام پر اسے کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں ہم ہر ایک کے ساتھ پیار کرتے ہیں۔ہر ایک کو پیار کے ساتھ اس صداقت کی طرف لانا چاہتے ہیں جو ہمارے نزدیک صداقت ہے اور یہ کوئی گناہ نہیں۔ایک اچھی چیز جو میں اچھی چیز سمجھتا ہوں اگر میں چاہوں کہ وہ دوسروں کے پاس بھی ہو تو یہ بات قابل اعتراض نہیں ہے۔یہ چیز ضرور قابل اعتراض بن جاتی ہے جو کہانیوں میں بیان کی جاتی ہے۔کہتے ہیں ایک گیدڑ تھا یا شاید کوئی اور جانور تھا اس کی دم کٹ گئی تو اس نے کہا یہ تو فضول چیز تھی سارے ہی گیدڑوں کو چاہیے کہ وہ بھی اپنی دُمیں کٹوادیں۔ہم تو انسان ہیں خدا نے ہمیں انسان سے پیار کرنا سکھایا ہے اور یہ بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے انسان کو سب سے بڑی نعمت ہی یہ عطا کی ہے کہ ایک ایسی جماعت پیدا کر دی گئی جو انسان سے انسان کی حیثیت سے پیار کرتی ہے۔اسے کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور اس سے بھی دشمنی نہیں جو کسی غلط فہمی کی وجہ سے خود کو ہمارا دشمن سمجھتا ہے میں نے کئی دفعہ یہ کہا ہے اور یہ کہتے ہوئے میں کبھی تھکوں گا نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک لوگ کہتے ہیں ایک لاکھ ہیں یا چوبیس ہزار انبیاء گزرے ہیں اور زمین پر انسانی زندگی کا بڑالمبازمانہ ہے جس میں پتہ نہیں کتنے آدم پیدا ہوئے ہیں مگر تاریخ نے کوئی ایک واقعہ بھی ریکارڈ نہیں کیا کہ پیار نے کبھی شکست کھائی ہو۔غرض میں بتا یہ رہا ہوں کہ میرے نزدیک اس زمانہ میں نوع انسانی پر خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ مہدی علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ نوع انسانی کا ایک حصہ ایسا پیدا کر دیا گیا ہے جو ہر ایک سے پیار کرتا ہے اور کسی سے دشمنی نہیں رکھتا۔دنیا میں یہ چیز جماعت احمدیہ کے باہر کہیں بھی نظر نہیں آئے گی۔دنیا میں بڑا فساد پیدا ہوا ان اقوام کی وجہ سے جو بڑی مہذب کہلاتی ہیں اور اپنے آپ کو تہذیب کی چوٹیوں پر پہنچی ہوئی بجھتی ہیں مگر وہ بھی ایک دوسرے سے نفرت اور حقارت کا سلوک کر رہی ہیں اور جو غریب ممالک ہیں ان کے ساتھ کوئی پیار نہیں کرتا۔چنانچہ بڑے بڑے مہذب اور مالدار ممالک کی جتنی بھی پالیسیاں ہیں وہ سب اپنے فائدہ کے لئے ہیں