خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 198
خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۸ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء ہے کہ ایک غریب دنیا کا دھتکارا ہوا پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس، کھانا اسے ملتا نہیں اور اگر ملے بھی تو مالی قربانیاں پیش کرنے کی ندا جب اس کے کان میں پڑتی ہے تو باوجود اس غربت کے وہ ایک پیسہ اٹھنی ، روپیہ ( بہر حال تکلیف اٹھاتا ہے اور ) میرے حضور پیش کر دیتا ہے یہ چیز جب اس کی نگاہ میں آتی ہے تو پھر وہ نتائج نکالتا ہے اور پھر وہ اتنے انقلابی نتائج ہوتے ہیں کہ (انشاء اللہ ) دنیا دیکھے گی کہ وہ چیز جو آج انہونی نظر آتی ہے کہ اسلام کیسے پھیلے گا وہ پوری ہو کر رہے گی۔ایک طرف بڑی زبردست Godless ( گاڈلیس ) سوسائٹی ہے جو کہتی ہے کہ ہم خدا سے بیزار ہیں۔تم بھی خدا سے بیزار اور خدا بھی تمہارے اعمال اور منصوبوں سے بیزا رلیکن خدا تم سے پیار کرنے والا ہے۔تم اس کی مخلوق ہو۔اس نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ تم چاہو نہ چاہو ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ تم اس کی طرف آؤ گے کھنچے چلے آؤ گے اور تمہیں اس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک کہ تمہاری گردنیں اس کے پاؤں کے اوپر جھک نہیں جائیں گی۔پس ہم جو حقیقت سے آگاہ ہیں ہم جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو پہنچاننے والے ہیں ہم جانتے ہیں کہ Godless Socicty ( گاڈیس سوسائٹی ) کے نعرے لگانے چند دنوں کی بات ہے چند سالوں کی بات ہے۔ہوگا وہی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے دنیا کی کوئی طاقت قرآن کریم کی پیشگوئیوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارتوں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی۔پھر دوسری طرف سرمایہ دار ممالک ہیں جہاں عیسائیت بڑی طاقتور ہے لیکن اندر سے کھوکھلی ہے۔تاہم ظاہر میں بڑی طاقت ہے ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے بڑے پیسے ہیں میں نے شمار تو نہیں کیا لیکن میرے خیال میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں پادری ہیں جو دنیا میں کام کر رہے ہوں گے بے تحاشا ان کا لٹریچر چھپ رہا ہے مگر وہ مانتے ہیں کہ وہ نا کام ہو گئے ہیں۔اسے تسلیم بھی کرتے ہیں اور اپنے رسالوں میں بھی شائع کرتے ہیں کہ جہاں جہاں افریقہ میں احمدی ہیں وہاں عیسائیت پسپا ہو رہی ہے۔ایک وقت میں انہوں نے کہا تھا کہ افریقہ خداوند یسوع مسیح کی جھولی میں ہے۔وہ وقت بھی کہ جب وہ یہ نعرے لگاتے تھے اور آج وہ مجبور ہو گئے ہیں یہ تسلیم کرنے پر کہ ہم ایک عیسائی بناتے ہیں تو جماعت دس مسلمان بنا لیتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے