خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 183

خطبات ناصر جلد ششم ۱۸۳ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء ہیں جب تک ویسی مسجد نہ ہو خدا تعالیٰ سے ثواب نہیں ملتا تو نعوذ باللہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسجد کھجور کے پتوں کی چھت کی بنائی تھی جو بارش میں ٹپکتی رہتی تھی موجب ثواب نہ تھی اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوسکتی ہے۔پس ہم مسجد میں خدا کی رضا کے حصول کے لئے بناتے ہیں ہم نے کہیں بھی اپنی شان کے لئے مسجد نہیں بنائی۔خدا کا گھر بنانا ہے اور خدا کے گھر بنانے میں ہماری رضا یہ ہے کہ وہ آبادر ہے اور خدا ہمیں، ہماری نسلوں کو، ہمارے ہمسایوں کو اور ان ملکوں کو جن میں مساجد بنائی جارہی ہیں یہ تو فیق عطا کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ان گھروں کو ، ان مساجد کو آباد درکھیں۔سویڈن میں ایک وقت میں یہ بھی ہوا تھا کہ احمدی تھوڑے ہیں ان کو مسجد کے لئے زمین نہ دی جائے بلکہ جو لوگ زیادہ ہیں ان کو مسجد کے لئے زمین دی جائے۔وہاں ایک شخص نے مجھے بتا یا اس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں مجھے صرف اتنا بتایا گیا کہ جب یہ صورت پیدا ہوئی تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور انہوں نے سویڈن کے متعلقہ افسران سے یہ کہا کہ ہماری مسجد ہر موحد کے لئے کھلی ہے اس میں مسلمان ہونے کی بھی شرط نہیں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موحد عیسائی فرقے کے وفد کو جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو یہ فرمایا کہ تم باہر کیوں جاتے ہو مَسْجِدِئ هذا یہ میری مسجد ہے تم اس میں عبادت کرو۔اب دیکھو مسجد نبوی سے زیادہ با برکت اور مقدس دنیا میں اور کوئی مسجد نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دروازے عیسائیوں کے لئے کھول دیئے اور فرمایا تم باہر کیوں جاتے ہو یہیں اپنی عبادت کر لو۔پس أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا ( الجن: ۱۹) کی رو سے ہر موحد کے لئے خدا کے گھر کے دروازے کھلے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا یہی اعلان میں نے ڈنمارک میں کوپن ہیگن کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا۔اس کے معا بعد جمعہ کی نماز تھی اور اس جمعہ کی نماز میں سینکڑوں عیسائی بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے تھے جب میں نے یہ کہا أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ احدًا اگلی آیت کا ٹکڑا ہے۔اس سے ہماری اسلامی تعلیم کی تین باتیں بڑی نمایاں طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں۔ایک یہ کہ ہم مسجد کے مالک نہیں، مسجد تو خدا کا گھر ہے اور وہی اس کا مالک ہے