خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 177
خطبات ناصر جلد ششم 122 خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء پتہ نہیں وہ کتنے گھنٹے پیشاب رکھتے ہیں بہر حال ڈیڑھ دو دن تک تو وہ رکھتے ہیں اس میں بیکٹیر یا کی بہت بڑی تعدا دنکل آتی ہے۔غرض اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں تو میں نے سوچا کہ جب نتیجہ یہ نکل رہا ہے اور علامت انفیکشن کی کوئی نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیماری دور ہوگئی ہے۔وہاں آہستہ آہستہ ورزش بھی کرنی شروع کی پارکس میں سیر کرنی شروع کر دی۔لندن میں پارکس بہت ہیں وہ شہر اس لحاظ سے قابل رشک ہے کہ ہر دس پندرہ میل کے اندر انسان کو سینکڑوں ایکڑ کی پارک مل جائے گی کوئی کامن کے نام سے اور کوئی پارک کے نام سے اور اس کے اندر بہت سے ایسے حصے ہوتے ہیں جہاں موٹر بھی نہیں جاتی موٹر کی سڑکیں علیحدہ بنی ہوئی ہیں وہاں آرام سے آدمی سیر کر سکتا ہے۔بہر حال یہ تسلی ہو گئی کہ جس قسم کی بیماری کا خطرہ یہاں ڈاکٹر محسوس کر رہے تھے اس قسم کی بیماری نہیں البتہ انفیکشن تو تھی اس نے ضعف بھی کیا اس کی وجہ سے بخار بھی ہوا اس کی وجہ سے کام میں بھی دقت پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا یہاں دوائیں مل رہی تھیں۔انہوں نے کہا یہاں بھی ہم یہی دوائیں دیتے بلکہ ایک ڈاکٹر نے تو کہا کہ شاید کچھ زیادہ اینٹی بائیوٹکس دے دی گئی ہیں۔اس سے کم پر بھی گزارہ ہو جاتا واللہ اعلم۔یہ تو کوئی ایسی چیز نہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ نے فضل فرما یا صحت ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں آج پھر آپ کے اندر آ کر کھڑا ہو گیا اور آپ کے سامنے خطبہ جمعہ دینا شروع کیا اور میں آپ کو دیکھنا اور آپ سے ملنا چاہتا تھا اور آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے۔ہم دونوں کی خواہشیں آج پوری ہو گئیں لیکن قریب دس گیارہ مہینے بیماری رہی۔بیچ میں ایسے وقفے آئے کہ جب بھی کچھ صحت ہو جاتی تھی میں خطبہ دینے کے لئے یہاں آجا تا تھا لیکن بیماری نے ایک قسم کی دوری پیدا کر دی تھی جو نہیں ہونی چاہیے۔روحانی طور پر نہیں قلبی طور پر نہیں لیکن بیماری کی وجہ سے بہر حال ایک فرق تو پڑ گیا اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔وہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے دور ہو گیا۔اب میں بھی دعا کرتا ہوں آپ بھی دعا کریں کہ یہ فرق پھر بیچ میں نہ آئے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے اور یہ حقیقت ہے اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ