خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 151
خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۱ خطبه جمعه ۵ ستمبر ۱۹۷۵ء اور آپ کو ملنے والی بشارتوں اور وعدوں پر زندہ ایمان رکھتے ہوئے دنیا میں غلبہ اسلام کے لئے انشراح صدر کے ساتھ قربانیاں پیش کر کے اپنے آپ کو خدائی افضال و انعامات کا مورد بنائے گا۔آخر میں حضور نے اس امر کا ذکر کرتے ہوئے کہ قیام سلسلہ کی اگلی صدی جس کے شروع ہونے میں پندرہ سال باقی رہ گئے ہیں غلبہ اسلام کی صدی ہے۔فرمایا یہ پندرہ سال تیاری اور قربانی کے سال ہیں۔خدا نے آپ پر بڑا فضل کیا ہے کہ اس نے نئی صدی شروع ہونے سے پہلے آپ کو قر بانیوں کا موقع دیا ہے۔اس وقت ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور وہ ذمہ داری یہی ہے کہ ہم خود حقیقی ایمان باللہ سے متصف ہو کر نہ صرف اپنے قول سے بلکہ اپنے فعل سے بھی دعوت الی اللہ کرتے چلے جائیں تا کہ بنی نوع انسان امت واحدہ کی شکل اختیار کر سکیں۔خدا تعالیٰ نے خود یہ اعلان کر دیا ہے کہ میرے اور میرے مقربین کے نزدیک سب سے اچھا اور سب سے پیارا قول واعلان یہ ہے کہ انسان خود کہے إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ خدا تعالیٰ نے اس بات کو سب سے اچھا اور سب سے پیارا اعلان نہیں کہا کہ ایک شخص دوسرے کے بارہ میں کہے کہ وہ کیا ہے بلکہ پیارا اعلان اس امر کو ہی قرار دیا ہے کہ ایک شخص خود یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار ہوں اور پھر اس کا قول اور فعل اس بات کی گواہی دے کہ واقعی وہ اللہ تعالیٰ کے فرماں برداروں میں شامل ہے۔پس دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر بنی نوع انسان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنے کے لئے قربانیاں کرتے اور دعاؤں سے کام لیتے چلے جاؤ اور صرف وہی ہتھیار کام میں لاؤ جو خدا نے تمہیں عطا کئے ہیں۔ہمیں دلائل قاطعہ کا ہتھیار دیا گیا ہے، ہمیں دعاؤں کی قبولیت کا ہتھیار دیا گیا ہے۔ہمیں آسمانی نشانوں کا ہتھیار دیا گیا ہے۔یہ نہایت ہی کارگر ہتھیار ہیں اور ان کے ذریعہ ہی اسلام کا دنیا میں غالب آنا مقدر ہے۔پس اس موقع کو غنیمت جانیں قربانیاں کریں اور دعاؤں سے کام لیتے چلے جائیں تا کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جلد تر جمع کر دے۔آمین۔روز نامه الفضل ربوه ۲۵ رستمبر ۱۹۷۵ ء صفحه ۶،۲)