خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 102
خطبات ناصر جلد ششم ۱۰۲ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء ہے کہ بچہ کو جس وقت جس چیز کی جتنی مقدار میں خواہش پیدا ہو، وہ اُسے ملنی چاہیے۔پس خواہش اندر سے پیدا ہوتی ہے۔بعد میں ہمارے ماحول اندر کی بعض طاقتوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ایک دفعہ ہماری بڑی پھوپھی جان کی ایک نو اسی کو اسہال لگے ہوئے تھے وہ ملنے آئی تو اس کو بھنے ہوئے چنے دے دیئے گئے ہمارے گھروں میں بالعموم بھنے ہوئے چنے بہت پسند کئے جاتے ہیں اس کو اسہال آرہے تھے پھوپھی جان نے چنے رکھے، وہ کہے میں نے چنے کھانے ہیں۔باپ ڈاکٹر تھا وہ کہے اس کا تو پیٹ خراب ہے اس کو تو اسہال آرہے ہیں چنے کھانے سے تو اور بیمار ہو جائے گی۔پھوپھی جان نے کہا بالکل نہیں۔جو یہ کہتی ہے وہ اسے کھانے دو اس نے چنے کھائے اور اسے اسہال سے آرام ہو گیا۔پس کھانے پینے کے معاملہ میں کوئی تکلف نہیں کرنا چاہیے۔کھانے پینے کا تکلف لعنت بن جاتا ہے حقیقتا لعنت بن جاتا ہے جو چیز میسر ہے وہ اپنے وقت پر کھاؤ۔انسان کا جسم کچھ ایسا بنا ہے کہ اسے خاص وقفہ کے بعد غذ املنی چاہیے۔عادتوں کی وجہ سے یہ وقفہ مختلف ہو جاتا ہے ہمارے زمیندار بھائیوں کا وقفہ ذرا لمبا ہوتا ہے۔قادیان کی بات ہے میں خدام الاحمدیہ کا صدرتھا برسات کے موسم میں میں اٹھوال گیا۔وہاں ایک دن بارش ہو گئی اب وقت مقر ر کیا ہوا تھا ہم نے چھ سات میل کا فاصلہ طے کیا تھا کہ پتہ لگا آگے پانی ہی پانی ہے۔ہمارے پاس مانگے کی موٹر تھی وہ وہاں نہیں جاسکتی تھی۔خدام الاحمدیہ کے قائد آئے اُنہوں نے ہمارا سامان اٹھایا اور گھٹنے گھٹنے پانی میں کہیں زیادہ اور کہیں کم ہم چھ سات میل پیدل چلے اٹھوال پہنچے۔رات وہاں ٹھہرے۔میں چونکہ عام طور پر کھانے میں تکلف نہیں کرتا جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ میرے ساتھ تکلف نہیں کرتے۔خیر جو کھانا میسر تھا وہ اُنہوں نے دے دیا بڑا مزیدار کھانا تھا۔صبح اُنہوں نے پراٹھے کھلائے پھر پتہ لگا نہر ٹوٹ گئی ہے۔میں خدام کو لے کر وہاں چلا گیا دو تین گھنٹے کام کیا قائد صاحب نے بھی کام کیا میں ان کی بات کر رہا ہوں۔پھر ہم دو پہر کے بعد واپس چلے تو انہوں نے ہی سامان اٹھایا اور چھ سات میل کا فاصلہ پانی میں طے کیا۔میں نے سوچا اُنہوں نے تو میرے سامنے کہیں بھی کھانا نہیں کھا یا موٹر میں بیٹھنے لگے تو میں نے اُن سے پوچھا تمہیں کھانا کھاتے نہیں دیکھا کہنے لگے