خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 103
خطبات ناصر جلد ششم ۱۰۳ خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء کہ نہیں جی کام میں کھانا نہیں کھایا، اب جا کر کھا لیں گے۔پس وہ تو اتنا لمبا وقفہ بھی برداشت کر جاتے ہیں۔ان کی ایسی عادت ہے لیکن تکلف نہیں کرنا چاہیے۔یہ صحیح ہے کہ کوئی شخص کھانا کم کھاتا ہے اور کوئی زیادہ کھا تا ہے بعض دفعہ مہمان بن کر چلے جائیں تو بعض میزبان ایسے بھی ہوتے ہیں جوز بر دستی کھلاتے ہیں۔کہتے ہیں تمہیں ضرور کھلانا ہے چاہے بعد میں اسہال سے جان نکل جائے اور بعض لوگ ایسے ہیں مثلاً حیدر آباد میں یہ مشہور ہے کہ وہاں دعوت پر جو لوگ بھی جاتے تھے وہ کھانا گھر میں کھا کر جاتے تھے اور کہتے تھے ہم تو بہت کم خور لوگ ہیں ہم تو چڑیا کی زبان اور روٹی کا پھپھولا کھانے والے ہیں بس ذرا سا لقمہ لیا اور کھا لیا حالانکہ پیٹ بھر کر آئے ہوئے ہوتے تھے گھر سے۔تو یہ تکلف ہے اور یہ تکلف بھی تضاد ہے۔میں اصل چیز یہ بتارہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہاری زندگیوں میں کسی قسم کا تضاد پیدا نہیں ہونا چاہیے نہ اندرونی طور پر اور نہ خدا تعالیٰ کی صفات کے مقابلے میں۔اندرونی طور پر اس طرح کہ تمہاری ایک صلاحیت ایک چیز کا تقاضا کر رہی ہے اور دوسری صلاحیت کو تم نے دوسری طرف لگا دیا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ نے ساری صلاحیتوں کا مجموعہ تمہیں ایسا بنا کر دیا تھا کہ جن میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ویسے بھی خلق خدا میں تضاد نہیں پایا جاتا۔اس آیت میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خلق کے اندر کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔جہاں مرضی ہو جا کر تلاش کرو تمہیں خلق خدا میں کوئی تضاد نہیں نظر آئے گا۔خدا تعالیٰ نے ہر انسان کو جتنی صلاحتیں دیں اُن میں آپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ اُن میں یک جہتی ہے اور اُن کا آپس میں بڑا گہرا اور مضبوط تعلق ہے تو آپس میں اندرونی تضاد نہیں ہونا چاہیے اور خدا تعالیٰ کی صفات سے انسان کے اعمال کا تضاد نہیں ہونا چاہیے۔جو صلاحیتیں ہمیں ملی ہیں اگر اُن کا صحیح استعمال کیا جائے تو تضاد نہیں ہو گا۔پس جس بات کی مجھے ہر وقت فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کی جس حد تک معرفت حاصل کی ہے اور جماعت نے صفات الہیہ کی معرفت کا جو مقام حاصل کیا ہے اور جس پر وہ گذشتہ سال با وجود سخت مشکلات اور مصائب کے قائم رہی ہے اس مقام پر وہ ہمیشہ قائم رہے۔اپنی زندگیوں میں اور اپنے اعمال میں کسی قسم کا تضاد نہ پیدا ہونے دیں۔اندرونی طور پر