خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 90
خطبات ناصر جلد ششم خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء غرض انسان کو ساتوں قسم کی زندگی عطا کی گئی ہے مگر غیر انسان کو اللہ تعالیٰ نے سات قسم کی زندگی نہیں دی بعض کو کم قسموں کی اور بعض کو زیادہ مگر انسان کو ساتوں قسم کی زندگی دی۔اس زندگی اور موت کے متعلق میں نے پچھلے خطبہ میں مختصر بتا دیا تھا۔انسان کو یہ زندگی اس لئے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے آزمائے۔ویسے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے تو کوئی چیز پوشیدہ تھی اور آزمائش کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی وہ تو علام الغیوب خدا ہے، اس کے علم سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے اور اس کی زندگی کا سوال خود انسان کے علم سے پوشیدہ تھی اور انسان کے ماحول سے پوشیدہ تھی۔بہت سے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑے ہیں اور اس طرح وہ متکبر بن جاتے ہیں۔اُن کے اندر کبر پیدا ہو جاتا ہے۔کوئی کہتا ہے میں علم میں بڑا ہوں کوئی کہتا ہے کہ میں روحانیت اور تزکیہ نفس اور طہارت میں بڑا ہوں کوئی کہتا ہے کہ میرے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ کوئی پہلوان میرا مقابلہ نہیں کر سکتا یہ اور اسی قسم کے دوسرے تکبر انسان کے لئے موت کا باعث بن جاتے ہیں۔جس چیز کو انسان زندگی سمجھتا ہے ، وہ اس کے لئے موت بن جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی درگاہ سے وہ دھتکار دیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی برکتوں اور نعمتوں کے حصول کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کی لعنتوں کا وارث بن جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت وحیات کا سلسلہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہیں بھی پتہ لگے اور دوسروں کو بھی پتہ لگے کہ تمہارا مقام کیا ہے تمہاری حیثیت کیا ہے تم زندگی کے حامل ہو یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کی شکل میں تم پر موت وارد ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے وہ بڑی طاقت والا ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم اس سے زبردستی یہ منوالو کہ تم پاکیزہ ہو حالانکہ قرآن کریم 9191 نے یہ کہا ہے کہ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمُ اپنے آپ کو تزکیہ یافته یا پاک نہ ٹھہرا یا کرو کیونکہ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم :۳۳) تقویٰ کا علم اور اس کا فیصلہ اور اس کا اظہار اور اس کے مطابق اپنی قدرت کی تاروں کو ہلانا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے یہ انسان کا کام نہیں ہے۔پس وہ عزیز ہے اور بڑی طاقت والا ہے کوئی شخص اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا لیکن مایوسی بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ غفور بھی ہے وہ مغفرت کرنے والا ہے۔یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ہر لحظہ اور ہر آن استغفار کرتا